ویب ڈیسک: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے تیزاب حملوں کے مرتکب افراد کے لیے سزائے موت کی تجویز دینے والے بل کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایسے جرائم کے خلاف قانون کو مزید سخت کرنا ہے جو متاثرین کو زندگی بھر کے جسمانی اور ذہنی نقصان سے دوچار کر سکتے ہیں۔
سینیٹر محمد عبدالقادر کی جانب سے پیش کیے گئے فوجداری قانون ترمیمی بل میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 336 بی میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ دفعہ تیزاب اور دیگر نقصان دہ کیمیائی مواد سے پہنچنے والے جسمانی نقصان سے متعلق ہے۔
مجوزہ ترمیم کے تحت تیزاب حملے کے جرم پر سزائے موت، عمر قید یا کم از کم 14 سال قید کے ساتھ 20 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
کمیٹی نے کوئٹہ میں ایک خاتون ڈاکٹر پر حالیہ تیزاب حملے کو بھی قانون میں مزید سختی کی ضرورت کی ایک وجہ قرار دیا۔ جون میں 29 سالہ مہنور ناصر کو کوئٹہ سول اسپتال میں ایک ملازم نے مبینہ طور پر تیزاب پھینک کر شدید زخمی کر دیا تھا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اگست میں سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں تیزاب حملوں کو قتل سے بھی زیادہ سنگین قرار دیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ ایسے حملے متاثرین کو ایک ایسی زندگی کی طرف دھکیل سکتے ہیں جسے “زندہ موت” کہا جا سکتا ہے۔
کراچی میں بھی گزشتہ ہفتے ایک 35 سالہ خاتون تیزاب حملے میں جھلس گئی تھیں۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ شہر کے اپر گزری علاقے میں پیش آیا جہاں ایک شخص نے مبینہ طور پر خاتون پر تیزاب پھینکا۔
تیزاب حملوں کے اثرات اکثر ابتدائی زخموں تک محدود نہیں رہتے۔ متاثرین کو مستقل جسمانی نشانات، بینائی سے محرومی، بار بار علاج، ذہنی صدمے اور سماجی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے اسی اجلاس میں کئی دیگر فوجداری قوانین میں ترامیم کی بھی منظوری دی۔ ان میں گھریلو ملازمین پر تشدد کو جرم قرار دینا، ایل پی جی کی غیر محفوظ منتقلی پر سزائیں بڑھانا اور اسپتالوں کی جانب سے میت روکنے کو قابل سزا جرم بنانا شامل ہے۔
تاہم تیزاب حملوں سے متعلق مجوزہ ترمیم اس لیے خاص اہمیت رکھتی ہے کہ یہ متاثرین کے تحفظ اور مجرموں کے لیے سخت سزا کے بارے میں جاری بحث کو دوبارہ سامنے لے آئی ہے۔
یہ بل ابھی پارلیمانی قانون سازی کے مزید مراحل سے گزرے گا۔ اس وقت تک پاکستان پینل کوڈ میں موجود موجودہ قوانین ہی نافذ العمل رہیں گے۔
اصل سوال صرف سزا سخت کرنے کا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا سخت قانون متاثرین کو فوری انصاف، مؤثر تحقیقات اور عملی تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب ہو سکے گا۔





