اسلام آباد: سپریم کورٹ کی جانب سے زاہر جعفر کی نظرثانی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد نور مقدم قتل کیس میں ان کے لیے عدالتی راستہ تقریباً ختم ہوچکا ہے، جبکہ آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت صدارتی رحم کی درخواست اب ممکنہ اگلا راستہ ہوسکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے 4 جون کو جعفر کی نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے نور مقدم کے قتل کے جرم میں ان کی سزائے موت برقرار رکھی تھی۔ اگست میں جاری ہونے والے تفصیلی فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ جرم کی سنگینی سزا میں کمی کی کوئی بنیاد فراہم نہیں کرتی۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ نظرثانی کی کارروائی اپیل کا متبادل نہیں اور پہلے سے طے شدہ معاملات کو دوبارہ کھولنے کے لیے استعمال نہیں کی جاسکتی۔
جعفر نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست کی تھی اور ذہنی بیماری سمیت مختلف بنیادیں پیش کی تھیں۔ تاہم سپریم کورٹ کے مطابق وہ ایسا مواد پیش نہیں کرسکے جس سے پہلے فیصلے پر نظرثانی کی ضرورت ثابت ہوتی۔
اب ممکنہ راستہ صدر کے سامنے رحم کی درخواست ہے۔ آئین کا آرٹیکل 45 صدر کو سزا معاف کرنے، کم کرنے، معطل کرنے یا اس میں تبدیلی کا اختیار دیتا ہے۔
جعفر کی جانب سے اس راستے کی تیاری پہلے ہی شروع کی جاچکی تھی۔ جولائی 2025 میں اڈیالہ جیل حکام نے ان کے طبی اور نفسیاتی معائنے کے لیے بورڈ تشکیل دینے کی درخواست کی تھی۔ جیل حکام کے مطابق یہ رپورٹس صدارتی رحم کی درخواست کے لیے ضروری تھیں۔
تاہم یہاں ایک اہم فرق ہے۔ رحم کی درخواست کی تیاری اور اسے باضابطہ طور پر صدر کے سامنے جمع کرانا ایک ہی بات نہیں۔ تازہ دستیاب معتبر اطلاعات میں اس بات کی تصدیق نہیں کہ جعفر نے صدر آصف علی زرداری کے سامنے ایسی درخواست باضابطہ طور پر جمع کرا دی ہے۔
نور مقدم کو جولائی 2021 میں اسلام آباد میں جعفر کی رہائش گاہ پر قتل کیا گیا تھا۔ 27 سالہ نور کی ہلاکت کے بعد جعفر کو گرفتار کیا گیا اور فروری 2022 میں ٹرائل کورٹ نے انہیں قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی یہ سزا برقرار رکھی۔
مئی 2025 میں سپریم کورٹ نے قتل کے جرم میں سزائے موت برقرار رکھی، تاہم ریپ کے جرم میں دی گئی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا۔ اغوا کی سزا بھی تبدیل کرکے غیر قانونی حبس کے جرم میں ایک سال کردی گئی۔
یوں کیس اب ایک اہم قانونی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ سپریم کورٹ نے عدالتی نظرثانی کا راستہ بند کردیا ہے، لیکن آئین کے تحت صدر کے پاس سزا میں مداخلت کا الگ اختیار موجود ہے۔
اب اگلا سوال یہ نہیں کہ سپریم کورٹ دوبارہ اس مقدمے کو دیکھے گی یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا صدارتی رحم کی درخواست باضابطہ طور پر دائر کی جائے گی، اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس پر کیا فیصلہ سامنے آئے گا۔





