مسقط: عمان نے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت میں موجود خلل کے جلد ختم ہونے کی توقع ظاہر کی ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم ترین راستوں میں شامل ہے۔
عمان کے وزیر توانائی سالم العوفی نے پیر کو کہا کہ آبنائے ہرمز میں موجود خلل ممکنہ طور پر مختصر مدت کا معاملہ ہے اور درمیانی مدت میں صورتحال مستحکم ہوجانی چاہیے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق انہوں نے یہ بات موجودہ صورتحال پر تبصرے کے دوران کہی۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان سے ملانے والا اہم بحری راستہ ہے جہاں سے تیل اور مائع قدرتی گیس سمیت بڑی مقدار میں توانائی کی ترسیل ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے یہاں بحری آمد و رفت میں کسی بھی بڑے خلل کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس ہوسکتے ہیں۔
العوفی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمان کو توقع ہے کہ موجودہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار نہیں رہے گی اور بحری سرگرمیاں درمیانی مدت میں معمول پر آسکتی ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت پر خدشات برقرار ہیں۔
توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے خلل کا دورانیہ بھی اہم ہے۔ مختصر مدت کی رکاوٹ کو ذخائر اور متبادل انتظامات کے ذریعے کسی حد تک برداشت کیا جاسکتا ہے، جبکہ طویل رکاوٹ سے توانائی کی فراہمی، شپنگ اخراجات اور قیمتوں پر زیادہ دباؤ پڑ سکتا ہے۔
عمان کی جانب سے صورتحال جلد مستحکم ہونے کی توقع ایک محتاط مثبت اشارہ ہے، تاہم علاقائی کشیدگی برقرار رہنے کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توانائی منڈیوں کے لیے اہم رہے گی۔





