اسلام آباد: برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر بھارتی ٹی وی نیٹ ورک این ڈی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں ملائیشیا کے وزیر اعظم انوار ابراہیم نے بین الاقوامی سلامتی کے معاملات میں شواہد پر مبنی نقطہ نظر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے پاکستانی حکومت کے اقدامات کو ریاستی دہشت گردی کے برابر قرار دینے سے انکار کر دیا۔
غزہ میں جاری تشدد کے بارے میں سوال کے جواب میں انوار ابراہیم نے حماس کے خلاف اسرائیل کی فوجی کارروائی کو ”ریاستی دہشت گردی“ قرار دیا۔ تاہم جب این ڈی ٹی وی کے اینکر وشنو سوم نے اس کا موازنہ بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں اپریل 2025 کے پہلگام حملے سے کرنے کی کوشش کی، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے، تو ملائیشیا کے وزیر اعظم نے دہشت گردانہ کارروائیوں اور ریاستی سرپرستی کے درمیان واضح فرق قائم کیا۔
انوار ابراہیم نے کہا، ”میرے انٹیلی جنس ادارے اور بھارت کے ساتھ ان کے رابطے مجھے کبھی یہ نہیں بتا سکے کہ 'انوار، جی ہاں، وہاں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی ہو رہی ہے'۔“ انہوں نے مزید کہا کہ بطور وزیر اعظم انہیں تصدیق شدہ حقائق پر ہی انحصار کرنا ہوتا ہے۔
دہشت گردی کے واقعات کی حد تک اعتراف کرتے ہوئے بھی انوار ابراہیم نے قابلِ تصدیق ثبوت کے بغیر پاکستانی ریاست کو ذمہ دار ٹھہرانے سے انکار کر دیا۔ پہلگام واقعے کے بعد مئی 2025 میں دونوں ایٹمی پڑوسیوں کے درمیان فوجی کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔ اسلام آباد نے مسلسل اس واقعے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور اس کی جگہ ایک شفاف بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جس کی ملائیشیا نے بھی حمایت کی تھی۔
انوار ابراہیم نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستانی قیادت دونوں کے ساتھ اپنے قریبی سفارتی تعلقات کا اعادہ کیا، اور اس بات کو دہرایا کہ ملائیشیا غیر مصدقہ الزامات کے بجائے تعمیری بات چیت کے ذریعے علاقائی کشیدگی کم کرنے میں مدد کے لیے تیار ہے۔





