حیدرآباد: جامشورو میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر کے خلاف احتجاج میں مقامی برادریوں نے آلودگی، پانی اور روزگار پر ممکنہ اثرات کے خدشات اجاگر کیے ہیں۔
حیدرآباد، جامشورو، ٹھٹھہ اور بدین سے تعلق رکھنے والے اساتذہ، کسانوں، ماہی گیروں، ماہرین ماحولیات اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے جمعہ کو کوٹری بیراج کے قریب احتجاج کیا۔ مظاہرین نے ایشیائی ترقیاتی بینک کی معاونت سے قائم جامشورو کوئلہ پاور پلانٹ کے ماحولیاتی اور سماجی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔
سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی کے پروفیسر اسماعیل کُنبھر نے کہا کہ پلانٹ کے باعث فضائی آلودگی، زمین کی خرابی اور پانی کی آلودگی مقامی زرعی اور ماہی گیر برادریوں کے روزگار کے لیے خطرات پیدا کر رہی ہے۔ دیگر شرکا نے بھی زرعی پیداوار، مویشیوں کے لیے چراگاہوں اور مچھلیوں کی تعداد اور اقسام میں کمی کے دعوے کیے۔ یہ اثرات مظاہرین کے الزامات ہیں اور ان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
مظاہرین نے خاص طور پر کوئلے سے پیدا ہونے والی راکھ کی تلفی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کے ذریعے راکھ کو منتقل کرکے ایش پونڈ میں ذخیرہ کرنے سے پانی کے ذخائر، ماحولیاتی نظام اور دریائے سندھ کے ڈیلٹا پر ممکنہ اثرات کا جائزہ مزید ضروری ہے۔
ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے ریکارڈ کے مطابق جامشورو پاور جنریشن منصوبہ ماحول کے حوالے سے کیٹیگری اے میں شامل ہے۔ منصوبے کی دستاویزات میں کوئلے کے پلانٹ سے بڑی مقدار میں راکھ اور دھوئیں کے اخراج، اخراج پر قابو پانے، پانی کے انتظام، راکھ کی تلفی اور ماحولیاتی نگرانی کے اقدامات شامل ہیں۔
اے ڈی بی کے مطابق منصوبے کا مقصد مہنگے فرنس آئل کے بجائے نسبتاً کم لاگت والے کوئلے کے ذریعے بجلی کے نظام میں تنوع پیدا کرنا تھا۔ منصوبے میں 600 میگاواٹ کا سپر کریٹیکل کوئلہ یونٹ شامل تھا، جس کے لیے 80 فیصد درآمدی سب بٹومنس کوئلہ اور 20 فیصد مقامی لگنائٹ استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
جامشورو پلانٹ کے دو نئے یونٹس میں سے ایک نے مئی 2025 میں کام شروع کیا تھا۔ دونوں یونٹس کی مجموعی صلاحیت 1320 میگاواٹ ہے۔
مظاہرین نے اے ڈی بی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ کوئلے کے منصوبے کے بجائے قابل تجدید توانائی، خصوصاً شمسی توانائی، میں سرمایہ کاری پر غور کیا جائے اور متاثرہ برادریوں کے روزگار اور ماحول کے تحفظ کو ترجیح دی جائے۔
جامشورو منصوبہ پاکستان کی بجلی کی ضروریات اور توانائی کے اخراجات کم کرنے کی کوشش کا حصہ تھا، لیکن اس کے ماحولیاتی اثرات پر مقامی اعتراضات یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ توانائی کی پیداوار کے ساتھ پانی، زراعت، ماہی گیری اور دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے تحفظ کو کس طرح متوازن کیا جائے۔





