اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیر، 14 ستمبر 2026ء کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کے متوقع لانگ مارچ کے خلاف دائر درخواست نمٹا دی۔ چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں قائم لارجر بنچ نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے اس سیاسی مظاہرے کے لیے سرکاری مشینری، عوامی فنڈز یا سرکاری اہلکاروں کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی۔
یہ فیصلہ ایک شہری وقاص احمد کی درخواست پر سامنے آیا، جس میں عام زندگی اور ضروری خدمات کی فراہمی میں ممکنہ خلل کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ بنچ نے قرار دیا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو شاہراہیں یا سرکاری عمارتیں بند کرنے کا قانونی حق حاصل نہیں ہے اور صوبائی حکام کو اس کی سختی سے تعمیل کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سماعت کے دوران بنچ نے 2022ء اور 2024ء کے سابقہ احتجاجی مظاہروں کی ویڈیو فوٹیج دکھانے کی اجازت دی، اگرچہ چیف جسٹس ڈوگر نے پہلے عدالتی کارروائی میں اسے ایک معمول کی روایت بنانے پر ہچکچاہٹ کا اظہار کیا تھا۔ عدالت نے انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا کی جانب سے جمع کرائی گئی باضابطہ انڈر ٹیکنگ کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا، جنہوں نے بنچ کو یقین دہانی کرائی کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی غیر قانونی یا آئین مخالف اجتماع کو روکنے کے لیے اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کارروائی کریں گے۔





