اسلام آباد: پاکستان میں ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد طلبہ 20 ستمبر کو میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ یعنی ایم ڈی کیٹ 2026 میں شرکت کریں گے، جو ملک کے بڑے داخلہ امتحانات میں شامل ہے۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو جمع کرائے گئے پانچ جامعات کے اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 138158 امیدوار امتحان کے لیے رجسٹرڈ ہیں۔ ان میں سے 136095 امیدواروں نے اضافی رجسٹریشن مرحلے سے پہلے اندراج کرایا تھا، جبکہ امتحان ملتوی ہونے کے بعد مزید 2063 امیدوار رجسٹر ہوئے۔
یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور سب سے زیادہ امیدواروں کا امتحان لے گی، جہاں 49198 طلبہ رجسٹرڈ ہیں۔ خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور 38841 امیدواروں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ آئی بی اے سکھر 34232 امیدواروں کا امتحان منعقد کرے گی۔
بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کوئٹہ میں 9923 امیدوار رجسٹرڈ ہیں، جبکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد میں 5964 امیدوار امتحان دیں گے۔ ایس زیڈ اے بی ایم یو سعودی عرب میں بھی ایک امتحانی مرکز قائم کرے گی۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لیے مقابلہ کتنا سخت ہے۔ صرف یو ایچ ایس لاہور میں رجسٹرڈ امیدوار ملک بھر کے مجموعی امیدواروں کے ایک تہائی سے زیادہ ہیں۔
ایم ڈی کیٹ پہلے 16 اگست کو ہونا تھا، تاہم آزاد جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ سروسز کی معطلی اور موجودہ کشیدگی کے باعث امتحان 20 ستمبر تک ملتوی کردیا گیا تھا۔ بعد ازاں پی ایم ڈی سی نے رجسٹریشن دوبارہ کھول دی، جس کے نتیجے میں مزید 2063 امیدوار امتحانی عمل میں شامل ہوئے۔
پی ایم ڈی سی نے امتحان منعقد کرنے والی جامعات اور صوبائی حکام کو تمام انتظامات بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ امتحانی مراکز، سکیورٹی، طبی امداد، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور امیدواروں کے ساتھ آنے والے والدین یا سرپرستوں کے لیے سہولیات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔
ایم ڈی کیٹ پاکستان کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لیے لازمی امتحان ہے۔ 20 ستمبر کو ہونے والا یہ امتحان ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد طلبہ کے لیے صرف ایک ٹیسٹ نہیں بلکہ ملک کے میڈیکل کالجوں میں محدود نشستوں تک پہنچنے کی اگلی بڑی آزمائش ہوگا۔





