ریاض: یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے کنگ خالد ایئر بیس پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز پر علاقائی اجلاس کے التوا نے خطے میں تیل کی فراہمی اور جہاز رانی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
حوثی عسکری ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق گروپ نے خمیس مشیط میں واقع ایئر بیس کو درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں طیاروں کے ہینگرز، ریڈارز، رن ویز، بارود کے ڈپو اور دیگر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس سے بھاری نقصان ہوا ہے۔
حوثیوں کا کہنا تھا کہ یہ حملہ یمن میں سعودی فضائی حملوں کا جواب تھا، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ پانچ دنوں میں مختلف یمنی صوبوں پر سعودی F-15 اور ٹائفون جنگی طیاروں نے 300 سے زائد حملے کیے۔ سعودی عرب نے فوری طور پر ایئر بیس پر ہونے والے نقصان کی تصدیق نہیں کی ہے۔
سعودی محکمہ شہری دفاع نے خمیس مشیط گورنریٹ میں الرٹ جاری کیا اور بعد میں بتایا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ شہری دفاع کی ہدایات پر عمل کریں اور اجتماعات اور فلم بندی سے گریز کریں۔
دوسری جانب، ایران نے کہا ہے کہ تہران اور خلیجی ممالک کے درمیان عمان میں طے شدہ اجلاس سعودی عرب کی درخواست پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ریاض نے فی الوقت اجلاس نہ بلانے کی درخواست کی تھی۔ اس معاملے پر سعودی عرب کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
توقع تھی کہ اس اجلاس میں ایران اور عمان کو آبنائے ہرمز کے سمندری راستوں سے متعلق ہفتوں کے مذاکرات کے بعد طے پانے والی تفہیم پیش کرنے کا موقع ملے گا۔ بقائی نے کہا کہ تفہیم کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور تہران اگلے اقدامات پر عمان کے ساتھ مشاورت کرے گا۔
یہ التوا ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جمعہ کے روز ڈرون حملوں سے متاثر ہونے والی سعودی عرب کی 1,200 کلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن بند ہے۔ یہ پائپ لائن سعودی عرب کو بحیرہ احمر کی ینبع بندرگاہ تک تیل منتقل کر کے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
رائٹرز کے حوالے سے صنعت کے ذرائع نے بتایا کہ اگر پائپ لائن بند رہی تو بھی سعودی عرب کے پاس ینبع میں پانچ سے سات دن کے لیے برآمدات برقرار رکھنے کا کافی ذخیرہ موجود ہے۔ ان کا تخمینہ ہے کہ اگر یہ تعطل جاری رہا تو عالمی سطح پر تیل کی 4 فیصد تک سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی میں کمی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل میں مزید اضافہ ہوگا۔
چین اور جنوبی کوریا نے الگ الگ بیانات میں ضبط و تحمل اور مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ بیجنگ نے شہری ہلاکتوں اور توانائی کی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان پر تشویش کا اظہار کیا۔ سیؤل نے شہریوں اور معاشی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کی اور حملے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو مسلسل خطرات لاحق ہیں اور علاقائی سطح پر تیل کی سپلائی معطل ہو رہی ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی پہلے ہی جنگ سے پہلے کی سطح سے نمایاں طور پر کم ہے۔





