اسلام آباد: آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے سات اہم مقامات پر 5G کی آزمائشی سروس شروع کردی گئی ہے، جس سے ان دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی نئی سہولت متعارف ہوئی ہے۔
اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن نے دونوں علاقوں میں سات مقامات پر 5G سروس کی آزمائش شروع کی ہے۔ رواں سال کے اختتام تک مزید 20 مقامات پر سروس شروع کرنے کا منصوبہ ہے، جس کے بعد فعال 5G مقامات کی مجموعی تعداد 27 ہوجائے گی۔
5G ٹیکنالوجی سے سیاحت، تعلیم، صحت، کاروبار اور سرکاری خدمات سمیت مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل سہولیات کے فروغ کی توقع ہے۔
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا بیشتر جغرافیہ پہاڑی اور دشوار گزار ہے، جہاں بعض علاقوں میں مواصلاتی رابطہ برقرار رکھنا ایک مستقل چیلنج رہا ہے۔ بہتر موبائل انٹرنیٹ ایسے علاقوں میں آن لائن تعلیم، ٹیلی میڈیسن، ڈیجیٹل کاروبار اور سرکاری خدمات تک رسائی میں مدد دے سکتا ہے۔
سیاحت کے شعبے میں بھی تیز رفتار رابطہ اہم ثابت ہوسکتا ہے۔ آن لائن بکنگ، ڈیجیٹل ادائیگیوں، نقشوں، سفری معلومات اور سیاحوں سے رابطے کے لیے بہتر انٹرنیٹ مقامی کاروباروں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔
تاہم موجودہ پیش رفت کو مکمل 5G کوریج نہیں بلکہ آزمائشی سروس کے طور پر دیکھا جائے گا۔ مزید 20 مقامات پر توسیع کے بعد ہی اندازہ ہوگا کہ یہ سہولت دونوں علاقوں میں کتنی وسیع سطح تک پہنچ پاتی ہے۔
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 5G صرف تیز انٹرنیٹ کا نام نہیں۔ اگر اس کی رسائی وسیع ہوتی ہے تو یہ پہاڑی اور دور دراز آبادیوں کو تعلیم، صحت، سیاحت، کاروبار اور سرکاری خدمات سے زیادہ مؤثر انداز میں جوڑنے میں کردار ادا کرسکتی ہے۔





