لندن: پاکستان اور برطانیہ اپنے موجودہ تجارتی روابط کو وسعت دیتے ہوئے ٹیکنالوجی، مالیاتی خدمات اور مینوفیکچرنگ سمیت نئے شعبوں میں کاروباری تعاون بڑھانے پر غور کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جمعرات کو لندن میں برطانیہ کے وزیر مملکت برائے تجارت انس سرور سے ملاقات کی، جس میں دونوں ملکوں کے درمیان اشیا اور خدمات کی تجارت بڑھانے کے طریقوں پر بات چیت ہوئی۔
دونوں وزرا نے انفارمیشن ٹیکنالوجی، فن ٹیک، مینوفیکچرنگ اور پیداوار سمیت مختلف شعبوں میں کاروبار اور تجارت کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں جانب سے دسمبر میں شروع ہونے والے پاکستان برطانیہ ٹریڈ ڈائیلاگ میکانزم کے ذریعے عملی نتائج حاصل کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔
پاکستانی حکومت کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان موجودہ دو طرفہ تجارت تقریباً 2.5 ارب ڈالر سالانہ ہے، جبکہ دونوں جانب نے اشیا اور خدمات کی تجارت میں مزید اضافے کی گنجائش تسلیم کی ہے۔
برطانوی حکومت کے تازہ دستیاب اعداد و شمار ایک وسیع تصویر پیش کرتے ہیں۔ ستمبر 2025 کو ختم ہونے والے 12 ماہ میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان اشیا اور خدمات کی مجموعی تجارت 5.6 ارب پاؤنڈ رہی۔ اس میں برطانیہ کی پاکستان کو برآمدات 3 ارب پاؤنڈ جبکہ پاکستان سے درآمدات 2.5 ارب پاؤنڈ تھیں۔ مجموعی تجارت گزشتہ 12 ماہ کے مقابلے میں 13.5 فیصد بڑھی۔
سرمایہ کاری بھی دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات کا اہم حصہ ہے۔ برطانوی اعداد و شمار کے مطابق 2024 کے اختتام پر پاکستان میں برطانیہ کی براہ راست سرمایہ کاری کا حجم 1.3 ارب پاؤنڈ تھا، جبکہ برطانیہ میں پاکستانی سرمایہ کاری کا حجم 69 ملین پاؤنڈ تھا۔
آئی ٹی اور فن ٹیک پر موجودہ توجہ پہلے سے جاری اقتصادی رابطوں کا تسلسل بھی ہے۔ جولائی میں محمد اورنگزیب اور برطانیہ میں پاکستان کے نئے ہائی کمشنر ٹیپو عثمان نے بینکاری، مالیاتی خدمات، کیپٹل مارکیٹس اور ڈیجیٹل فنانس میں تعاون پر بات کی تھی۔
مینوفیکچرنگ پر زور ایسے وقت میں دیا جا رہا ہے جب پاکستان اپنی برآمدات کا دائرہ وسیع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے رواں ہفتے مزید شعبوں کو عالمی منڈیوں کے لیے تیار کرنے اور پاکستانی مصنوعات کے معیار، ویلیو ایڈیشن اور بین الاقوامی ضوابط سے مطابقت بہتر بنانے پر زور دیا۔





