ٹورنٹو: مصنف اور ہدایت کار بسام طارق کی نئی فلم ’یور مدر یور مدر یور مدر‘ میں اسلام میں ماں کے مقام سے متعلق تعلیم کو مہرشالا علی کی ایکشن کہانی کے مرکز میں رکھا گیا ہے۔
فلم کی کہانی لطیف کے گرد گھومتی ہے، جس کا کردار مہرشالا علی نے ادا کیا ہے۔ لطیف ایک مسلمان اجرتی قاتل ہے جس کی اہلیہ کی وفات کے بعد اس پر اپنے تین بچوں کی ذمہ داری آ جاتی ہے۔ اپنے خاندان کی دیکھ بھال کی کوشش اسے ایک ایسے تنازع میں لے جاتی ہے جہاں اسے اپنے کام، ایمان اور بطور باپ اپنی ذمہ داریوں سے متعلق سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
فلم کا عنوان ایک معروف حدیث سے لیا گیا ہے جس میں ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ اس کے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے۔ جواب میں تین مرتبہ ماں کا ذکر کیا گیا اور اس کے بعد والد کا۔ فلم کے آغاز میں اسی تعلیم کو پیش کیا گیا ہے، جو کہانی میں ماں، خاندان اور ایمان کے درمیان تعلق کی بنیاد بنتی ہے۔
انسٹاگرام میڈیا پلیٹ فارم دی مسلم نے بھی فلم سے متعلق اپنی پوسٹ میں اس تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ فلم کا عنوان اسی حدیث کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس میں اسلام میں ماں کے مقام پر زور دیا گیا ہے۔
فلم کا ٹریلر کہانی کے بارے میں محدود معلومات فراہم کرتا ہے اور زیادہ توجہ لطیف، اس کے بچوں اور انہیں درپیش خطرات پر رکھتا ہے۔ بھورے رنگوں اور کم روشنی پر مبنی اس کا بصری انداز خاندانی زندگی، مذہبی عمل اور تصادم کے مناظر دکھاتا ہے، تاہم مرکزی تنازع کس طرح آگے بڑھتا ہے، اس کی زیادہ تفصیل سامنے نہیں لاتا۔
مون لائٹ اور گرین بک کے لیے اکیڈمی ایوارڈ جیتنے والے مہرشالا علی فلم میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ دیگر اداکاروں میں جان چو، ابوبکر علی، آدیا، جہلیل کمارا اور جیان کارلو ایسپوزیٹو شامل ہیں۔ بسام طارق نے فلم کی کہانی لکھی اور اس کی ہدایت کاری کی۔ اس سے قبل طارق اور علی مارول کے بلیڈ منصوبے سے بھی منسلک رہ چکے ہیں۔
فلم کا پریمیئر 2026 کے ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول (TIFF) میں ہوا، جہاں بسام طارق نے فلم کی کاسٹ کے ارکان کے ساتھ شرکت کی۔ پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان نے بھی فلم کے سلسلے میں TIFF میں شرکت کی اور انہیں بسام طارق کے ساتھ کہانی، نمائندگی اور جنوبی ایشیائی تارکین وطن کے تجربات پر ہونے والی گفتگو کی میزبانی کرنا تھی۔ رپورٹس کے مطابق ماہرہ خان اور بسام طارق کو فیسٹیول کے دوران مسلم ایکسیلنس اِن سنیما اینڈ آرٹس ایوارڈ بھی دیا جانا تھا۔
فلم کے مرکز میں لطیف کے مذہبی عقائد، اس کے کام اور بچوں کے حوالے سے اس کی ذمہ داریوں کے درمیان کشمکش ہے۔ اہلیہ کی وفات کے بعد اپنی شیر خوار بیٹی کی دیکھ بھال بھی کہانی کا حصہ بنتی ہے، جہاں فلم اس سوال کا جائزہ لیتی ہے کہ جب ایک باپ کو وہ ذمہ داریاں سنبھالنا پڑیں جو پہلے وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ بانٹتا تھا تو ماں کے کردار اور اس کی اہمیت کو کس طرح سمجھا جاتا ہے۔
’یور مدر یور مدر یور مدر‘ اسلامی حوالوں کو محض پس منظر تک محدود رکھنے کے بجائے اپنے عنوان سے منسلک حدیث کو والدین، ذمہ داری اور ایمان کے تقاضوں سے متعلق سوالات کی بنیاد بناتی ہے۔





