اسلام آباد: سینیٹ کی ذیلی کمیٹی نے پیر کو مطالبہ کیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری روک کر معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے رکھا جائے۔ یہ آئینی فورم وفاق اور صوبوں سے متعلق مشترکہ معاملات کا جائزہ لیتا ہے۔ کمیٹی نے خبردار کیا کہ اس کی ہدایت نظر انداز کرنے پر نجکاری کمیشن کے خلاف تحریک استحقاق لائی جا سکتی ہے۔
سینیٹر ضمیر حسین گھمرو کی زیر صدارت کمیٹی کا مؤقف تھا کہ ڈسکوز ایسے امور انجام دیتی ہیں جن کا تعلق صوبائی اختیارات سے بھی ہے، اس لیے ان کی ملکیت سے متعلق فیصلہ صوبوں کو شامل کیے بغیر آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ کمیٹی نے نجکاری کا فیصلہ منسوخ نہیں کیا، بلکہ موجودہ عمل روک کر مشترکہ مفادات کونسل سے تازہ غور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب حکومت فیصل آباد، گوجرانوالہ اور اسلام آباد کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاروں سے دلچسپی طلب کر چکی ہے۔ نجکاری کمیشن کے مطابق ان کمپنیوں کے تنظیم نو کے منصوبوں کو کمیشن کے بورڈ اور کابینہ کمیٹی برائے نجکاری سے منظوری مل چکی ہے۔ مشترکہ مفادات کونسل نے 2011 میں ڈسکوز کی نجکاری پر غور کیا تھا، لیکن سینیٹ کمیٹی موجودہ عمل کے لیے دوبارہ کونسل سے رجوع کرنے پر اصرار کر رہی ہے۔





