اسلام آباد: پاکستان میں جوہری بجلی کی پیداوار دو ہزار پچیس میں تین اعشاریہ سات فیصد بڑھ کر ریکارڈ بائیس اعشاریہ پانچ ٹیرا واٹ گھنٹے ہوگئی، جبکہ شمسی توانائی کی پیداوار پہلی مرتبہ اس سے آگے نکل گئی۔
ورلڈ نیوکلیئر انڈسٹری اسٹیٹس رپورٹ دو ہزار چھبیس کے مطابق دو ہزار چوبیس میں جوہری پیداوار اکیس اعشاریہ سات ٹیرا واٹ گھنٹے تھی۔ ایک ٹیرا واٹ گھنٹہ ایک ارب کلوواٹ گھنٹوں، یعنی عام طور پر استعمال ہونے والے بجلی کے ایک ارب یونٹس، کے برابر ہے۔
رپورٹ نے شمسی بجلی کی پیداوار چھتیس اعشاریہ تین ٹیرا واٹ گھنٹے بتائی، تاہم واضح کیا کہ اصل پیداوار اس تخمینے سے نمایاں طور پر زیادہ ہوسکتی ہے۔
پاکستان میں گھروں اور کاروباری اداروں کے نجی سولر نظام تیزی سے بڑھے ہیں۔ ان سے پیدا ہونے والی بجلی اکثر وہیں استعمال ہوجاتی ہے اور سرکاری گرڈ سے نہیں گزرتی، جس کے باعث روایتی ریکارڈ میں پوری پیداوار ظاہر نہیں ہوتی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے دو ہزار سترہ کے آغاز سے دو ہزار چھبیس کے وسط تک چین سے اٹھاون گیگاواٹ سے زیادہ سولر پینل درآمد کیے۔ ان میں چالیس گیگاواٹ، یعنی انہتر فیصد، دو ہزار چوبیس سے دو ہزار چھبیس کے وسط کے دوران آئے۔
گیگاواٹ پیداواری صلاحیت کی پیمائش ہے، جبکہ ٹیرا واٹ گھنٹے اصل پیداوار بتاتے ہیں۔ درآمد شدہ پینلوں کی پوری صلاحیت کو نصب شدہ اور فعال صلاحیت نہیں سمجھنا چاہیے۔
پاکستان کے چھ فعال جوہری ری ایکٹروں کی مجموعی صلاحیت تین ہزار دو سو باسٹھ میگاواٹ ہے۔ چار چشمہ اور دو کراچی کے قریب واقع ہیں۔ تمام چھ ری ایکٹر چین کی نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن نے تعمیر کیے۔
چشمہ پانچ زیر تعمیر ہے اور رپورٹ کے مطابق دو ہزار تیس تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
پاکستان اکنامک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ نے کراچی کے کے ٹو اور کے تھری ری ایکٹروں کے قرضوں کی ادائیگی کو جوہری بجلی کی لاگت کا اہم حصہ قرار دیا۔
ان قرضوں کی بارہ سالہ ادائیگی کی مدت ری ایکٹروں کی اندازاً ساٹھ سالہ معاشی عمر کا پانچواں حصہ ہے۔
اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ مہنگی بجلی کے دوران نجی شمسی پیداوار کی تیز توسیع کے ساتھ جوہری پیداوار بھی نئی بلند ترین سطح پر پہنچی ہے۔





