کوئٹہ: سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے سرکاری میڈیا نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا کہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سیکورٹی فورسز نے ایک آپریشن کے دوران کمانڈر سمیت تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) اور ریڈیو پاکستان کی رپورٹس کے مطابق آپریشن کے دوران اہلکاروں نے 'فتنة ہندوستان' کے کارندوں کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق گاڑی پر کواڈ کاپٹر سے انتہائی درست ہدف پر مبنی حملہ کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق اس حملے میں کمانڈر سمیت تین دہشت گرد ہلاک ہوئے اور ان کی گاڑی تباہ ہو گئی۔
یہ آپریشن بلوچستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں اضافے کے دوران سامنے آیا ہے، جہاں سیکورٹی فورسز صوبے بھر میں عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے ماہانہ جائزے کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردانہ حملوں کی تعداد جولائی میں 83 سے بڑھ کر اگست میں 89 ہو گئی، جس میں سات فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے کارندوں نے ضلع پشین میں این-50 قومی شاہراہ پر زیارت کراس کے قریب کسٹمز ہاؤس پر منظم حملہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس کے بعد ہونے والی فائرنگ کے تبادلے میں سیکورٹی فورسز نے 10 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ دو افسران سمیت چھ اہلکار شہید ہو گئے۔
31 اگست کو سیکورٹی فورسز نے ضلع چاغی کے علاقے نوکچہ میں این-40 کوئٹہ-تفتان شاہراہ پر غیر قانونی چیک پوسٹ قائم کرنے اور بھتہ خوری میں ملوث 'فتنة ہندوستان' کے 11 دہشت گردوں کو بھی ہلاک کر دیا تھا۔
2 ستمبر کو ضلع قلات میں خفیہ معلومات پر مبنی ایک آپریشن کے دوران 12 دہشت گرد ہلاک کیے گئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق بعد ازاں خاران اور واشک کے اضلاع میں الگ الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران سیکورٹی فورسز نے 11 دہشت گردوں کو ہلاک کر کے 2.9 ٹن دھماکہ خیز مواد برآمد کیا۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے 4 ستمبر کو بتایا کہ مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی کے اضلاع میں مختلف آپریشنز کے دوران 36 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جبکہ ان آپریشنز کے نتیجے میں سبی کے علاقے بھاگ میں پولیس اسٹیشن پر حملے کو بھی ناکام بنایا گیا۔
مستونگ میں تازہ ترین آپریشن سے صوبے میں مسلح گروہوں کے خلاف حکام کی انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔





