اسلام آباد: پاکستان ریلوے نے ادارے کو زیادہ مؤثر، مسافر دوست اور مالی طور پر مستحکم بنانے کے لیے جامع اسٹریٹجک اصلاحاتی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق منصوبے میں مال برداری کے نظام کو مضبوط بنانے، مسافروں کی سہولت کے لیے بنیادی ڈھانچے کو بہتر کرنے، نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے اور ریلوے کے مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے پر توجہ دی گئی ہے۔
منصوبے کا ایک اہم ہدف مین لائن ون کی اپ گریڈیشن کے بعد قومی مال برداری کی مارکیٹ میں پاکستان ریلوے کا حصہ موجودہ تقریباً آٹھ فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کے قریب کرنا ہے۔
اصلاحاتی منصوبے کے تحت کوئلہ، کنٹینرز، سیمنٹ، کھاد، راک فاسفیٹ اور دیگر بڑی مقدار میں منتقل ہونے والی اشیا کی ریلوے کے ذریعے ترسیل بڑھانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
مال برداری میں اضافہ پاکستان ریلوے کے لیے آمدنی کا ایک مضبوط ذریعہ بن سکتا ہے جبکہ سڑکوں پر مال برداری کے دباؤ کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اس ہدف کے حصول کے لیے بنیادی ڈھانچے، سروس کی قابل اعتماد کارکردگی اور سڑک کے ذریعے مال برداری کے مقابلے کی صلاحیت میں بہتری ضروری ہوگی۔
منصوبے میں مسافر خدمات کو بھی اہمیت دی گئی ہے، جس کے لیے بنیادی ڈھانچے میں بہتری کے ذریعے سفری سہولیات اور آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
نجی شعبے کی شمولیت بھی اصلاحات کا اہم حصہ ہے، جس کے ذریعے ریلوے کے مختلف آپریشنز اور خدمات میں نجی سرمایہ کاری اور انتظامی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے گی۔
ڈیجیٹل تبدیلی کے ذریعے آپریشنل نظام کو بہتر بنانے اور مسافروں اور کاروباری صارفین کے لیے خدمات کو زیادہ مؤثر بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
اصلاحاتی منصوبہ پاکستان ریلوے کو صرف ایک عوامی سفری سہولت کے بجائے ملک کے لاجسٹکس نظام کے ایک زیادہ مؤثر اور مالی طور پر پائیدار حصے میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔
تاہم منصوبے کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ آیا زیادہ مال برداری، بہتر مسافر خدمات اور نجی سرمایہ کاری ایک زیادہ قابل اعتماد ریلوے نظام اور مضبوط مالی کارکردگی میں تبدیل ہو پاتی ہے یا نہیں۔





