اسلام آباد: پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے نئی ذیلی قومی مہم شروع کردی گئی ہے۔
وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے جمعہ کو اسلام آباد میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر مہم کا باضابطہ افتتاح کیا۔ ایک ہفتے پر مشتمل یہ مہم 21 سے 27 ستمبر تک جاری رہے گی اور 115 ہائی رسک اضلاع میں ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین پلائیں گی۔
مہم کے لیے 2 لاکھ 73 ہزار سے زائد فرنٹ لائن ورکرز کو متحرک کیا گیا ہے۔ بلوچستان، گلگت بلتستان، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ کے مختلف اضلاع اس مہم میں شامل ہیں۔ افغانستان میں جاری پولیو ویکسینیشن سرگرمیوں کے ساتھ بھی اس مہم کو ہم آہنگ کیا جا رہا ہے تاکہ دونوں ملکوں میں وائرس کی منتقلی روکنے کی کوششوں کو مؤثر بنایا جا سکے۔
یہ مہم ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب پاکستان میں پولیو کے کیسز میں نمایاں کمی آئی ہے، لیکن وائرس کی منتقلی کا خطرہ برقرار ہے۔ حکومت کے مطابق 2026 میں اب تک پولیو کے چار کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں تین جنوبی خیبر پختونخوا اور ایک سندھ سے رپورٹ ہوا۔ ماحولیاتی نگرانی میں بھی مختلف علاقوں میں وائرس کی موجودگی سامنے آ رہی ہے۔
حکام کے مطابق جنوبی خیبر پختونخوا سکیورٹی کے باعث رسائی کے مسائل کی وجہ سے بدستور اہم چیلنج ہے۔ کراچی اور کوئٹہ کے بعض علاقوں میں بھی ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی موجودگی رپورٹ ہوئی ہے۔
پاکستان میں پولیو کے کیسز 2024 میں 74 سے کم ہو کر 2025 میں 31 رہ گئے تھے، جبکہ رواں سال اب تک چار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جب تک وائرس کی منتقلی مکمل طور پر نہیں رکتی، بار بار ویکسینیشن ضروری ہے۔
پاکستان انسداد پولیو پروگرام نے والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے افراد پر زور دیا ہے کہ وہ پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں، چاہے اسے پہلے بھی قطرے پلائے جا چکے ہوں۔





