انگلینڈ کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز کے دوران سلیکشن کمیٹی کو اعتماد میں لیے بغیر اسکاڈ میں یکطرفہ تبدیلیوں پر سابق قومی کپتان مصباح الحق نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی قومی سلیکشن کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ معاملے سے باخبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سلیکشن پینل سے مشاورت کے بغیر ٹیم میں اہم تبدیلیاں کی جانے پر مصباح نے ای میل کے ذریعے بورڈ کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔
رواں برس مارچ میں کمیٹی کا حصہ بننے والے سابق کپتان اپنی سرکاری ذمہ داریوں سے باضابطہ الگ ہونے سے قبل مقررہ نوٹس پیریڈ پورا کریں گے۔ ان کا استعفیٰ انگلینڈ کے خلاف پہلے دو ٹیسٹ میچوں میں مسلسل ناکامیوں کے بعد پاکستان کے ریڈ بال سیٹ اپ میں کی جانے والی غیر معمولی تبدیلیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
پیر کے روز پی سی بی نے سینئر بیٹر محمد رضوان، امام الحق اور سلمان علی آغا سمیت سات کھلاڑیوں کو فارغ کرتے ہوئے فوری طور پر پاکستان واپس پہنچنے کی ہدایت کی تھی۔ سلیکشن کمیٹی کی پیشگی منظوری یا رائے کے بغیر صائم ایوب اور عبداللہ فضل سمیت چھ متبادل کھلاڑیوں کو انگلینڈ روانہ کر دیا گیا، جس پر ضوابط کے طے شدہ طریقہ کار کی خلاف ورزی پر کمیٹی ارکان میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔
کھلاڑیوں کی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ پی سی بی نے 9 ستمبر سے ایجبسٹن میں شروع ہونے والے تیسرے اور آخری ٹیسٹ سے قبل مینجمنٹ اسٹاف میں بھی فوری ساخت جاتی تبدیلیاں کی ہیں۔ ریڈ بال کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور فاسٹ بولنگ کوچ عمر گل کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے، جب کہ وائٹ بال کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور بولنگ کوچ ایشلے نوفکے کو دورے کے بقایا حصے کے لیے ٹیسٹ ٹیم کا چارج سونپ دیا گیا ہے۔
ان وسیع پیمانے پر کی جانے والی تبدیلیوں پر بین الاقوامی کرکٹ تجزیہ کاروں اور سابق قومی کھلاڑیوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے، اور بین الاقوامی سیریز کے بیچ میں ٹیم کے تسلسل اور انتظامی استحکام پر خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔





