دبئی: امریکہ اور ایرانی افواج کے درمیان براہ راست حملوں کے بعد ہفتے کے اختتام پر ایک ماہ سے جاری عارضی سکوت ختم ہو گیا اور خلیج فارس میں کھلم کھلا معرکہ آرائی دوبارہ شروع ہو گئی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی کہ امریکی افواج نے بندر عباس کے قریب لارک جزیرے پر دو ایرانی راکٹ لانچروں کو نشانہ بناتے ہوئے پن پوائنٹ فضائی حملے کیے ہیں۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کے اہلکاروں کو حکمت عملی کے لحاظ سے اہم آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگیں بچھانے کی تیاری کرتے دیکھا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق بمباری میں پاسداران انقلاب کی بحریہ کے دو اہلکاروں سمیت تین افراد ہلاک ہوئے۔
جواب میں تہران نے رات گئے اردن میں امریکی فضائی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد میزائل داغے۔ اگرچہ ایرانی حکام نے اس تبادلے کو ایک محدود تصادم قرار دیا، لیکن تہران کے سینئر ذرائع نے خبردار کیا کہ مزید امریکی جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا۔ بعد ازاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ امریکی فضائی دفاعی نظام نے ان میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا، جبکہ انہوں نے ٹیلی ویژن پر خبردار کیا کہ واشنگٹن کا بھرپور جواب دینے کا ارادہ ہے۔
تاہم اوول آفس سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے وضاحت کی کہ اس کارروائی کا مطلب مکمل جنگ کی طرف واپسی نہیں ہے، ان کا کہنا تھا کہ ایران کی روایتی عسکری صلاحیتیں کافی حد تک کمزور ہو چکی ہیں اور انہوں نے جوہری اقدامات کی ضرورت کو مسترد کر دیا۔
یہ عسکری کشیدگی شدید اقتصادی دباؤ کی مہم کے دوران سامنے آئی ہے، جس کے تحت واشنگٹن نے ایرانی پیٹرولیم کی تجارت کرنے والے تیسرے ممالک کے اداروں پر ثانوی پابندیاں عائد کی ہیں۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اشارہ دیا کہ بڑھتی ہوئی پابندیوں نے ایران کی معیشت کو تباہ کر دیا ہے اور شدید مالی مشکلات کے باعث ہی تہران جارحانہ ردعمل دے رہا ہے۔
اسی اثنا میں صدر ٹرمپ کی جانب سے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے تیار کردہ ایک ویڈیو پوسٹ کرنے پر آن لائن تنازع کھڑا ہو گیا، جس میں جزیرہ خارگ کے آئل ٹرمینل کی تباہی دکھائی گئی تھی؛ تہران نے اس دعوے کو مضحکہ خیز قرار دے کر مسترد کر دیا، تاہم نائب صدر جے ڈی وینس نے اس پوسٹ کو علامتی تنبیہ قرار دیتے ہوئے اس کا دفاع کیا۔ تازہ ترین حملوں اور آبنائے ہرمز کی مسلسل ناکابندی کے باوجود، جہاں سے عالمی تیل کی 20 فیصد ترسیل ہوتی ہے، سفارتی راستے اب بھی زیر بحث ہیں۔
کرغزستان میں علاقائی سلامتی اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دہرایا کہ تہران اب بھی مذاکرات کے ذریعے حل کا حامی ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ طویل کشیدگی کسی بھی ملک کے فائدے میں نہیں ہے۔ تاہم، امن مذاکرات میں تعطل اور متعدد محاذوں پر عسکری نقل و حرکت کے باعث پوری خلیجی ریاستوں میں سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔





