لاہور: 31 اگست کو جاری کیے گئے ایک نوٹس کے مطابق، انگلینڈ کے خلاف پہلے دو ٹیسٹ میچوں میں خراب کارکردگی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے امام الحق اور محمد رضوان کی ٹیم میں شمولیت پر سلیکشن کمیٹی سے جواب طلبی کی ہے۔ یہ پیش رفت انگلینڈ کے ہاتھوں لارڈز میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں 194 رنز کی شکست کے بعد سامنے آئی، جس سے انگلینڈ نے تین میچوں کی سیریز میں 2-0 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کر لی۔
پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میں بھی ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے باعث سیریز میں ناکامی کے بعد بابر اعظم کی قیادت میں قومی ٹیم شدید دباؤ میں ہے۔
عاقب جاوید، مصباح الحق اور اسد شفیق پر مشتمل سلیکشن کمیٹی کے اراکین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دونوں کھلاڑیوں کی کارکردگی، انتخاب کے معیار اور اس عمل کے دوران پیشِ نظر رکھے گئے دیگر عوامل کے بارے میں تحریری رپورٹ جمع کرائیں۔
پی سی بی نے اراکین کو نوٹس موصول ہونے کے بعد تحریری جواب جمع کرانے کے لیے 24 گھنٹے کا وقت دیا ہے۔
پی سی بی کے نوٹس میں خاص طور پر 2 جون 2026ء کی سلیکشن کمیٹی کی اس میٹنگ کا حوالہ دیا گیا، جس کے منٹس 1 جولائی کو جمع کرائے گئے تھے اور جس میں اراکین کو ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دوروں کے لیے ٹیسٹ اسکواڈ پر غور و خوض اور کھلاڑیوں کے انتخاب کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
کمیٹی اراکین کی سفارش پر ہی بعد میں رضوان اور امام کو شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔
دوسری جانب سابق کرکٹر کے قریبی ذرائع کے مطابق مصباح الحق نے سلیکشن کمیٹی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ باخبر ذرائع نے بتایا کہ مصباح نے پی سی بی کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے اور وہ باضابطہ طور پر سبکدوش ہونے سے قبل نوٹس پیریڈ پورا کریں گے۔
یہ وضاحت قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی کے بعد پی سی بی کی جانب سے کیے جانے والے متعدد اقدامات کے سلسلے میں مانگی گئی ہے۔
ایک دن پہلے کرکٹ بورڈ نے برمنگھم میں ہونے والے تیسرے ٹیسٹ کے لیے رضوان اور امام سمیت سات کھلاڑیوں کو فارغ کر دیا تھا۔
کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق سلمان علی آغا، علی عثمان، عامر جمال، محمد اویس ظفر اور خرم شہزاد کو بھی ٹیسٹ اسکواڈ سے فارغ کر دیا گیا ہے۔





