پاکستان بھر میں صنف پر مبنی تشدد کے سنگین واقعات میں اضافے کے پیش نظر قومی کمیشن برائے وقار نسواں (این سی ایس ڈبلیو) نے چاروں صوبوں اور وفاقی علاقوں کی سینئر پولیس قيادت کے ساتھ ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا ہے۔ چیئرپرسن این سی ایس ڈبلیو نورین بانو لہڑی کی زیر صدارت اجلاس میں خاص طور پر حنا جاوید، آیت نور اور اسما جتک کے قتل اور حملوں کے ہائی پروفائل کیسز پر توجہ مرکوز کی گئی۔
کمیشن نے کراچی میں شیر خوار بچوں کلثوم محمد قاسم اور عائزل کی حالیہ ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ شکارپور میں نو سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ چیئرپرسن نورین بانو لہڑی نے پولیس سربراہان کو شفاف اور میرٹ پر مبنی تحقیقات یقینی بنانے کی ہدایت کی اور خبردار کیا کہ انتظامی غفلت یا کارروائی میں تاخیر کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انصاف کی راہ میں حائل انتظامی و قانونی رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے این سی ایس ڈبلیو نے صنف پر مبنی تشدد کے مقدمات کی تیزی سے سماعت کے لیے مخصوص عدالتوں اور عدالتی طریقہ کار کے فوری قیام کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں ایس ایس پی انویسٹی گیشنز پنجاب خرم شہزاد، ڈی آئی جی کرائمز خیبر پختونخوا محمد حسین، سندھ سے ایس ایس پی قمر رضوی اور ایڈیشنل آئی جی پی آپریشنز بلوچستان شہزاد اکبر سمیت پولیس کے سینئر نمائندوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ ہدف پر مبنی اسٹریٹ پیٹرولنگ میں اضافہ کریں، تعلیمی اداروں کے قریب نگرانی بڑھائیں اور نوجوان مردوں کو آگاہی فراہم کرنے کے لیے مہمات چلائیں۔
مزید برآں، کمیشن نے ان غیر قانونی قبائلی جرگوں کے خاتمے کے لیے سخت قانونی کارروائی کا حکم دیا جو متوازی عدالتی نظام کے طور پر کام کرتے ہوئے خواتین سے ان کے آئینی حقوق چھینتے ہیں۔ نئی آپریشنل ہدایات کے تحت، تمام صوبائی انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جیز) کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ تحقیقات کے وقت، سزاؤں کی شرح اور محکمے کی صلاحیت میں اضافے سے متعلق ماہانہ پیشرفت رپورٹ جمع کرائیں۔
شکایات کے فوری اندراج اور ہنگامی مداخلت کو آسان بنانے کے لیے این سی ایس ڈبلیو کے کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کو صوبائی پولیس قيادت کے ساتھ براہ راست منسلک کیا جا رہا ہے۔ کمیشن نے جیل اصلاحات سے متعلق حتمی ہدایات بھی جاری کیں، جن میں اسیر خواتین کی خصوصی نگرانی اور پیشہ ورانہ مشقت کرنے والی قیدی خواتین کو مرد قیدیوں کے برابر اجرت کی فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ رہائی کے بعد ان کی بحالی کے لیے مکمل فنی تربیت فراہم کرنا شامل ہے۔





