ویب ڈیسک: سوئٹزرلینڈ کے ای پی ایف ایل کے محققین نے ایک ایسا انجیکشن تیار کیا ہے جو کمزور ہڈیوں کو مضبوط بنانے اور آسٹیوپوروسس سے ہونے والے فریکچر کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ایک نئے طریقہ کار کی بنیاد بن سکتا ہے۔
یہ ہائیڈروجل ای پی ایف ایل کی لیبارٹری آف بایومکینیکل آرتھوپیڈکس کے محققین اور یونیورسٹی سے وابستہ اسٹارٹ اپ فلو بون نے تیار کیا ہے۔
اس میں ہائیالورونک ایسڈ اور ہائیڈروکسی ایپیٹائٹ کے ذرات شامل ہیں۔ ہائیڈروکسی ایپیٹائٹ ایک معدنی مادہ ہے جو قدرتی طور پر ہڈیوں میں پایا جاتا ہے۔ اس امتزاج کا مقصد ہڈی کے قدرتی معدنی ڈھانچے سے مشابہت پیدا کرنا ہے۔
ہڈیوں کی کمزوری والے چوہوں پر کیے گئے تجربات میں ہائیڈروجل نے علاج والی جگہ پر ہڈیوں کی کثافت میں تیزی سے اضافہ کیا۔ صرف ہائیڈروجل استعمال کرنے سے بعض مقامات پر ہڈیوں کی کثافت تقریباً دو سے تین گنا بڑھ گئی۔
سب سے نمایاں نتائج اس وقت سامنے آئے جب ہائیڈروجل کو آسٹیوپوروسس کی ادویات کے ساتھ استعمال کیا گیا۔ بعض مقامات پر صرف دو سے چار ہفتوں کے دوران ہڈیوں کی کثافت 4.8 گنا تک بڑھ گئی۔
یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ آسٹیوپوروسس کی عام ادویات پورے جسم پر اثر کرتی ہیں اور ان کے مکمل اثرات سامنے آنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ ای پی ایف ایل کا طریقہ اس کے برعکس ہڈی کے اس مخصوص حصے کو تیزی سے مضبوط بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے جہاں فریکچر کا خطرہ زیادہ ہو۔
ہائیڈروجل کا مقصد موجودہ ادویات کو ختم کرنا نہیں بلکہ ان کے ساتھ کام کرنا ہے۔ جانوروں پر کیے گئے تجربات میں مقامی ہائیڈروجل اور پورے جسم پر اثر کرنے والی دوا کے امتزاج نے الگ الگ علاج کے مقابلے میں زیادہ مضبوط نتائج دکھائے۔
یہ نتائج تحقیقی جریدے Bone میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئے، جس میں چوہوں میں مقامی اور پورے جسم پر اثر کرنے والے آسٹیوپوروسس کے علاج کے امتزاج کا جائزہ لیا گیا۔
تاہم یہ علاج ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے۔ انسانوں میں اس کی حفاظت اور مؤثریت ثابت نہیں ہوئی اور انسانی طبی آزمائشوں کے لیے متعلقہ منظوری درکار ہے۔ محققین امید رکھتے ہیں کہ مستقبل کی تحقیق سے یہ معلوم ہو سکے گا کہ آیا یہ ہائیڈروجل کمزور ہڈیوں کو تیزی سے مضبوط بنانے اور فریکچر کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے یا نہیں۔
اس تحقیق کی اصل اہمیت صرف ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں نہیں بلکہ کمزور ترین حصے کو تیزی سے مضبوط کرنے کے تصور میں ہے۔ اگر انسانی آزمائشوں میں بھی نتائج مثبت رہے تو مستقبل میں آسٹیوپوروسس کے مریضوں کے لیے موجودہ ادویات کے ساتھ ایک اضافی مقامی علاج دستیاب ہو سکتا ہے۔





