کنشاسا: کانگو میں ایبولا کی وبا سنگین صورت اختیار کر گئی ہے جہاں 3 ستمبر تک 6,342 مصدقہ کیسز اور 3,072 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔
ایبولا کی بنڈی بگیو قسم سے پھیلنے والی یہ وبا چھ صوبوں کے 60 صحت کے علاقوں تک پہنچ چکی ہے۔ حکام کے مطابق 770 مریضوں کو علیحدہ رکھا گیا ہے جبکہ 1,475 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
وبا کا سب سے زیادہ اثر اتوری صوبے میں ہے جہاں 5,164 کیسز اور 2,342 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ شمالی کیوو میں 913 کیسز اور 614 اموات ہوئی ہیں جبکہ جنوبی کیوو، ہاؤت یولی، تاشوپو اور باس یولی میں بھی کیسز سامنے آئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ وبا کے مسلسل پھیلاؤ سے پڑوسی ممالک میں بھی وائرس منتقل ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ ایبولا کی موجودہ وبا کو عالمی ادارہ صحت نے بین الاقوامی سطح پر صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال قرار دے رکھا ہے اور سرحدی نگرانی سمیت دیگر اقدامات جاری ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے وبا سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر وائرس کے پھیلاؤ کے تمام راستوں کا سراغ نہ لگایا گیا تو وبا جاری رہ سکتی ہے۔ کانگو کے حکام نے وبا سے نمٹنے کے لیے 1.3 ارب ڈالر کی بین الاقوامی امداد کی اپیل کی ہے۔
متاثرہ علاقوں میں بدامنی، مسلح تشدد اور بڑی تعداد میں لوگوں کی نقل مکانی نے امدادی کارروائیوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ صحت کے مراکز تک محدود رسائی، گنجان آبادی اور صاف پانی اور صفائی کی ناکافی سہولیات بھی متاثرہ افراد کی بروقت تشخیص اور وائرس کی روک تھام میں رکاوٹ ہیں۔
ایبولا کے علاج اور ویکسین کی تیاری پر بھی کام جاری ہے۔ 300 سے زیادہ مریضوں کو دو ممکنہ علاج کے تجربات میں شامل کیا گیا ہے جبکہ ایک اینٹی وائرل دوا کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا یہ وائرس سے متاثر ہونے کے زیادہ خطرے والے افراد میں بیماری کو روک سکتی ہے۔ بنڈی بگیو وائرس کے خلاف دو نئی ویکسین بھی ابتدائی تجربات سے گزر رہی ہیں۔
صحت کے کارکنوں کو بعض علاقوں میں ایربیو ویکسین دی جا رہی ہے، تاہم عالمی ادارہ صحت کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ ویکسین بنڈی بگیو وائرس کے خلاف انسانوں میں تحفظ فراہم کرتی ہے یا نہیں۔
وبا پر قابو پانے کے لیے متاثرہ افراد کی بروقت شناخت، مریضوں کو الگ رکھنا، رابطے میں آنے والے افراد کی نگرانی، علاج کی سہولیات میں اضافہ اور مقامی آبادی کے ساتھ مؤثر تعاون اہم ہوگا۔




