اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے منگل کے روز وفاقی دارالحکومت میں 27 ستمبر کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مجوزہ احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست پر سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ابتدائی سماعت کی صدارت کرتے ہوئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سردار محمد سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے جس کے اہم آئینی اثرات ہو سکتے ہیں، اور اس کے ممکنہ نتائج کسی آئینی بحران کا سبب بن سکتے ہیں۔
مقامی تاجر وقاص احمد کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے اعلان کردہ احتجاج اسلام آباد میں امن و امان، روزمرہ کے کاروباری امور اور شہری زندگی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔
درخواست گزار کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈووکیٹ اختر چھینہ نے دلائل دیے کہ سیاسی جماعتوں کو زیر التوا مجرمانہ مقدمات میں ریلیف حاصل کرنے کے لیے عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کی خاطر سڑکوں پر احتجاج کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے نومبر 2024 کے احتجاج سمیت ماضی کے مظاہروں کا حوالہ دیا، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے اور اندازاً 24 کروڑ روپے کا تجارتی نقصان ہوا۔
درخواست کی اہمیت کے پیش نظر عدالت نے اٹارنی جنرل برائے پاکستان کو باضابطہ نوٹس جاری کر دیے اور 10 ستمبر کو ہونے والی اگلی سماعت پر اعلیٰ صوبائی اور وفاقی انتظامی حکام کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ طلب کیے جانے والوں میں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز، انسپکٹر جنرلز آف پولیس (آئی جیز) اور ایڈووکیٹ جنرلز کے علاوہ اسلام آباد کے چیف کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور انسپکٹر جنرل آف پولیس شامل ہیں۔





