ویب ڈیسک: جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ فرانس کے ساتھ آبنائے ہرمز کی سلامتی سے متعلق بات چیت میں فوجی دستوں کی تعیناتی شامل نہیں ہے، بلکہ توجہ سمندری سلامتی اور بحری آمدورفت کے تحفظ میں ممکنہ تعاون پر ہے۔
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے پیرس میں ملاقات کے دوران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور عالمی سپلائی چین کے استحکام پر تبادلہ خیال کیا۔
جنوبی کوریا کے قومی سلامتی کے مشیر وائی سونگ لاک نے کہا کہ بات چیت کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ سیول خطے میں بین الاقوامی بحری سلامتی کی کوششوں میں کس طرح حصہ لے سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فوجی تعیناتی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے متحدہ عرب امارات میں ایک معائنہ ٹیم بھی بھیجی ہے تاکہ آبنائے ہرمز کے قریب سکیورٹی صورتحال اور ممکنہ کارروائیوں کا جائزہ لیا جا سکے۔ وزارت کے مطابق یہ ٹیم معلومات جمع کرنے کے لیے بھیجی گئی ہے اور اس کا مطلب فوجی تعیناتی کا حتمی فیصلہ نہیں ہے۔
آبنائے ہرمز جنوبی کوریا کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ملک کی توانائی کی درآمدات کا بڑا حصہ اس راستے سے گزرتا ہے۔ جنوبی کوریا کے مطابق گزشتہ سال اس کی خام تیل کی درآمدات کا 61 فیصد اور نیفتھا کی درآمدات کا 54 فیصد اسی آبی گزرگاہ سے آیا۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔ ایران کی جانب سے مختلف بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے دعووں نے خطے میں مزید کشیدگی اور عالمی توانائی کی ترسیل کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔
جنوبی کوریا کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی توانائی کی ترسیل اور بحری تجارت کے تحفظ میں کردار کیسے ادا کرے، جبکہ کسی ایسے فوجی اقدام سے بھی بچے جو اسے امریکا ایران تنازع میں براہ راست فریق بنا دے۔





