ویب ڈیسک: اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے سے پہلے کیا معلوم تھا، اس سوال نے ایک نئی رپورٹ کے بعد دوبارہ شدت اختیار کر لی ہے۔
اسرائیلی اخبار ہاریتز کی تازہ تحقیقات کے مطابق متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید نے حملے سے تقریباً 10 روز قبل نیتن یاہو کو حماس کے ایک بڑے آپریشن کے منصوبے سے خبردار کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ گفتگو تقریباً 45 منٹ جاری رہی اور اس میں حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کی جانب سے ایک بڑی کارروائی کی تیاری کی اطلاع دی گئی تھی۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے یہ معلومات اسرائیلی سکیورٹی حکام کے اعلیٰ عہدیداروں تک نہیں پہنچائیں اور خطرے کو فوری طور پر سنجیدہ نہیں لیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت نیتن یاہو کی توجہ مقبوضہ مغربی کنارے سے متعلق خطرات پر زیادہ تھی۔
تاہم نیتن یاہو کے دفتر نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ دفتر کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو اور اماراتی صدر کے درمیان ایسی کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ متحدہ عرب امارات نے بھی اس مبینہ گفتگو کی عوامی طور پر تصدیق نہیں کی۔
یہ دعویٰ اس لیے اہم ہے کیونکہ 7 اکتوبر سے پہلے اسرائیلی سکیورٹی اداروں کو حماس کی تیاریوں سے متعلق دیگر معلومات بھی موصول ہوئی تھیں۔
2023 میں نیویارک ٹائمز کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس نے حماس کا ایک تفصیلی جنگی منصوبہ ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ پہلے حاصل کر لیا تھا۔ اس منصوبے میں راکٹ حملوں، ڈرونز کے استعمال، غزہ کی سرحد عبور کرنے اور اسرائیلی فوجی و شہری مقامات پر حملوں کی تفصیلات شامل تھیں۔ تاہم اسرائیلی حکام نے اسے حماس کی صلاحیت سے بڑھ کر ایک غیر حقیقی منصوبہ سمجھا۔
بعد کی اسرائیلی فوجی تحقیقات میں بھی یہ بات سامنے آئی کہ حماس کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات موجود تھیں، لیکن انہیں اس مفروضے کے تحت دیکھا گیا کہ حماس بڑے پیمانے پر جنگ نہیں چاہتی اور اسے ماضی کے مقابلوں کے بعد روکا جا چکا ہے۔
مصر کی جانب سے دی گئی مبینہ وارننگز بھی پہلے ہی سامنے آ چکی ہیں۔ مصری حکام نے کہا تھا کہ اسرائیل کو غزہ سے کسی بڑی کارروائی کے خطرے سے خبردار کیا گیا تھا۔ ایک اعلیٰ امریکی رکن کانگریس نے بھی تصدیق کی تھی کہ امریکی حکام کو ایسی مصری وارننگز کے بارے میں بتایا گیا تھا، اگرچہ یہ واضح نہیں تھا کہ اسرائیلی حکومت میں یہ معلومات کس سطح تک پہنچی تھیں۔
اس لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ اسرائیل کے پاس 7 اکتوبر سے پہلے معلومات موجود تھیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کون سی معلومات کس عہدیدار تک پہنچیں، انہیں کس طرح سمجھا گیا اور ان کی بنیاد پر کیا اقدامات کیے گئے۔
نیتن یاہو کو 7 اکتوبر کے واقعات سے متعلق ریاستی تحقیقات کے مطالبات کا بھی سامنا رہا ہے، تاہم انہوں نے آزاد ریاستی تحقیقاتی کمیشن کے قیام کی مخالفت کی ہے۔
اگر تازہ دعویٰ آزادانہ تحقیقات میں درست ثابت ہوتا ہے تو معاملہ صرف انٹیلی جنس کی ناکامی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سیاسی ذمہ داری کا سوال بھی مزید اہم ہو جائے گا۔ تاہم اس وقت تک یہ کہنا کہ نیتن یاہو کو 7 اکتوبر کے حملے کا پہلے سے علم تھا، ایک الزام ہے، ثابت شدہ حقیقت نہیں۔





