اسلام آباد: پاکستان اور ازبکستان نے اگلے پانچ سالوں کے دوران دوطرفہ تجارت کو 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کر لیا ہے، جبکہ دونوں ممالک معاشی و علاقائی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اکتوبر 2026 تک براہِ راست ہوائی رابطے 9 ہفتہ وار پروازوں تک بڑھانے کی امید ظاہر کر رہے ہیں۔
اس ہدف کا اعلان اسلام آباد میں ازبکستان کے 35ویں یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں ازبکستان کے سفیر علیشیر توختاایو نے کیا۔ وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جس میں سرکاری حکام، سفارت کار، ارکانِ پارلیمنٹ اور کاروباری شخصیات بھی موجود تھیں۔
توختاایو نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات ازبک صدر شوکت میرضیایوف اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے مابین دوستی اور اعتماد پر استوار ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات کی تھی، جس میں انہوں نے موجودہ معاہدوں پر عمل درآمد اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ازبکستان ایس سی او اور اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کی صدارت سنبھالنے پر پاکستان کو خوش آمدید کہتا ہے اور علاقائی تعاون، امن، استحکام اور ترقی کے لیے اسلام آباد کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
تجارت کے حوالے سے سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک کاروباری برادریوں کے درمیان براہِ راست رابطوں میں اضافے، سرمایہ کاری منصوبوں کی معاونت، تجارتی گھرانوں (ٹریڈ ہاؤسز) کے قیام اور بینکنگ تعلقات کو مضبوط کر کے 2 ارب ڈالر کا ہدف حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان سامانِ تجارت کی نقل و حرکت میں آسانیاں پیدا کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
ہوائی رابطوں میں بھی وسعت آئی ہے۔ سفیر کے مطابق دو سال قبل پاکستان اور ازبکستان کے درمیان کوئی براہِ راست پرواز نہیں تھی۔ اب تاشقند کو اسلام آباد اور لاہور سے جوڑنے والی باقاعدہ مسافر پروازیں جاری ہیں، جبکہ براہِ راست کارگو پروازیں بھی شروع کی گئی ہیں۔
کراچی کی پروازوں سمیت نئے روٹس کے منصوبے کی بدولت، اکتوبر 2026 تک ہفتہ وار پروازوں کی تعداد 9 تک پہنچنے کی توقع ہے۔
توختاایو نے مجوزہ ازبکستان، افغانستان، پاکستان ریلوے کو دونوں ممالک کے مستقبل کے تعاون کا اہم ترین منصوبہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ریلوے لائن وسطی اور جنوبی ایشیا کی منڈیوں کو جوڑ سکتی ہے، روزگار کے مواقع پیدا کر سکتی ہے اور تجارت کو فروغ دے سکتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ازبکستان کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کو ایک خاص مقام حاصل ہے اور انہوں نے صدر میرضیایوف کو ملک کا سب سے بڑا شہری اعزاز 'نشانِ پاکستان' عطا کرنے پر اسلام آباد کا شکریہ ادا کیا۔
لغاری نے کہا کہ پاکستان ازبکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور توانائی، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط کے شعبوں میں تعاون بڑھانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ٹرانسپورٹ روابط کے ساتھ ساتھ عوامی اور ادارہ جاتی رابطوں کی استواری سے دونوں ممالک کے لیے مزید مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ تقریب پاکستان میں ازبکستان ٹورازم ڈیز کے موقع پر منعقد ہوئی، جس کا مقصد سیاحت کا فروغ اور ثقافتی و انسانی روابط کو مضبوط بنانا ہے۔





