امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا کے شہر ایش وِل میں پیر کو ہونے والے جی20 وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنرز کے اجلاس میں امریکا کو اپنے یورپی اتحادیوں کی جانب سے شدید تحفظات کا سامنا کرنا پڑا، جہاں واشنگٹن نے روس کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی مغربی کوششوں کو نظرانداز کیا جبکہ بعض امریکی میڈیا اداروں کے صحافیوں کی رسائی بھی محدود کردی گئی۔
دو روزہ اجلاس کا مقصد امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے عالمی اقتصادی ترقی، ضابطوں میں نرمی اور مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری سے متعلق ایجنڈے کو اجاگر کرنا تھا۔ تاہم، روسی وزیر خزانہ انتون سلیوانوف کی اجلاس میں شرکت توجہ کا مرکز بن گئی۔ یوکرین تنازع کے 2022 میں شدت اختیار کرنے کے بعد یہ ان کی پہلی ذاتی طور پر جی20 اجلاس میں شرکت تھی۔
یورپی مندوبین نے سلیوانوف کی دوبارہ اجلاس میں شرکت پر تشویش کا اظہار کیا، تاہم میزبان امریکا نے عملی رویہ اختیار کیا۔ اسکاٹ بیسنٹ نے روسی ہم منصب کے ساتھ دوطرفہ ملاقات کی، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یوکرین میں جنگ بندی سے متعلق مجوزہ امن فریم ورک پر بات چیت ہوئی۔
امریکی حکام کا کہنا تھا کہ طویل مدتی اقتصادی معاہدوں کا تعلق تنازع کے خاتمے سے ہے، تاہم واشنگٹن کی جانب سے ماسکو کے ساتھ براہ راست رابطہ یورپ کی روس کو مکمل طور پر سفارتی سطح پر الگ تھلگ رکھنے کی پالیسی سے واضح انحراف ظاہر کرتا ہے۔
یورپی حکام نے روایتی جی20 ’’فیملی فوٹو‘‘ میں شرکت سے گریز کیا، جو بعد ازاں روسی نمائندے کے بغیر بنائی گئی۔ پولینڈ کے وزیر خزانہ آندریج ڈومانسکی اور جرمنی کے وزیر خزانہ لارس کلائن بائٹل نے روس کی شمولیت پر کھل کر تنقید کی اور کہا کہ یورپ ماسکو کے خلاف مزید یکطرفہ پابندیوں کی تیاری کر رہا ہے۔
جرمن وزیر خزانہ نے روسی نمائندے کی شرکت کے حوالے سے کہا، ’’میں امریکی جانب سے زیادہ وضاحت چاہتا تھا۔‘‘ ان کا بیان واشنگٹن کی آزادانہ سفارتی حکمت عملی پر یورپ میں بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔
اجلاس کے دوران امریکا کی جانب سے بعض بڑے مغربی میڈیا اداروں کے صحافیوں کو پریس کریڈینشلز نہ دینے پر بھی تنازع پیدا ہوا۔ بلومبرگ نیوز، نیویارک ٹائمز اور وال اسٹریٹ جرنل سے وابستہ بعض صحافیوں کو رسائی نہیں دی گئی۔
امریکی محکمہ خزانہ کے نمائندوں نے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام درست اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ کے معیارات کے تحت کیا گیا، جبکہ اجلاس کے لیے 300 سے زائد میڈیا نمائندوں کو منظوری دی گئی تھی۔ جرمن وزیر خزانہ نے صحافیوں کو رسائی نہ دینے کو ’’ناقابل قبول‘‘ قرار دیا۔
اجلاس میں سیاسی اختلافات کے ساتھ عالمی تجارتی عدم توازن اور بڑھتے ہوئے قرضوں پر بھی بات چیت ہوئی۔ اسکاٹ بیسنٹ نے چین کے برآمدات پر انحصار کرنے والے معاشی ماڈل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور جی20 ممالک پر زور دیا کہ وہ بیجنگ کو ملکی کھپت بڑھانے کی جانب راغب کریں۔
فرانس کے وزیر خزانہ رولان لیسکیور نے اس مؤقف پر قدرے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ امریکا سمیت مغربی ممالک کو بھی اپنے ساختی معاشی مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، خصوصاً امریکا کے بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے کے تناظر میں۔
جی20 اجلاس نے واشنگٹن اور اس کے روایتی یورپی اتحادیوں کے درمیان روس سے سفارتی روابط، تجارتی ترجیحات اور میڈیا کی رسائی کے معاملات پر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔





