تہران: ایرانی حکام نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس سوشل میڈیا پوسٹ کو "مضحکہ خیز" قرار دے کر مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کا اہم ترین آئل ٹرمینل، جزیرہ خارگ "تباہ و برباد" کر دیا گیا ہے، اور تصدیق کی ہے کہ اس اسٹریٹجک توانائی مرکز پر آپریشنز متاثر نہیں ہوئے ہیں۔
اتوار کو ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ کی پوسٹ میں ایک ویڈیو کلپ شامل تھا جس میں شدید دھماکے دکھائے گئے تھے۔ فوٹیج کے تجزیے سے تصدیق ہوئی کہ یہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی گئی جعلی ویڈیو تھی۔ پوسٹ کے گھنٹوں بعد بھی جزیرہ خارگ پر، جو اس سے قبل ایران کی خام تیل کی تقریباً 90 فیصد برآمدات سنبھالتا تھا، کسی حملے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے چیف ایگزیکٹو حامد بوارد نے سرکاری میڈیا پر بتایا کہ جزیرے پر صورتحال پرسکون ہے اور مرمتی کام معمول کے مطابق جاری ہے۔
سوشل میڈیا کا یہ دعویٰ براہ راست فوجی ٹکراؤ میں شدید اضافے کے بعد سامنے آیا ہے، جو جولائی کے آخر کے بعد امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان پہلی معروف کارروائی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے آبنائے ہرمز کے قریب واقع جزیرہ لارک پر پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے دو لانچرز کے خلاف "محدود اور ہدف پر مبنی کارروائی" کی تصدیق کی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ نشانہ بنائے گئے لانچرز اسٹریٹجک سمندری گزرگاہ میں بارودی سرنگیں لے جانے والے راکٹ داغنے کی تیاری کر رہے تھے۔
جزیرہ لارک پر حملوں کے جواب میں ایران نے اردن میں قائم دو امریکی اڈوں پر جوابی حملے کیے۔ اردنی مسلح افواج کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے آٹھ میزائلوں کو راستے میں ہی تباہ کر دیا۔ ایرانی فوج نے متحدہ عرب امارات کے المنہاد ایئر بیس پر ڈرون حملے کی بھی ذمہ داری قبول کی اور دعویٰ کیا کہ اس نے امریکی اثاثوں کو نشانہ بنایا، تاہم اماراتی وزارتِ دفاع نے اس تنصیب پر حملے کی خبروں کی باضابطہ تردید کی۔ دریں اثنا، پاسدارانِ انقلاب نے خلیجی پانیوں کے اوپر ایک امریکی ڈرون کو مار گرانے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے غیر قانونی طور پر گزرنے کی کوشش کرنے والے ایک سپر ٹینکر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
کشیدگی اور تشدد کا یہ تازہ سلسلہ واشنگٹن کی جانب سے بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے دوران سامنے آیا ہے۔ امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اعلان کیا کہ واشنگٹن بینک مصر کے اماراتی آپریشنز کے خلاف حالیہ اقدامات کے بعد ایرانی سرمایہ سے منسلک مالیاتی اداروں کو نشانہ بنانے کے لیے ہفتہ وار ثانوی پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ تہران وسیع تر تنازع نہیں چاہتا، لیکن وہ بیرونی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دے گا۔





