امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو 48 ایف-35 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ 24.3 ارب ڈالر کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ جمعرات کو کانگریس کو بھیجی گئی اطلاع کے مطابق پیکیج میں ان طیاروں کے انجن، الیکٹرانک وارفیئر آلات، تربیت اور لاجسٹک معاونت بھی شامل ہے۔
پیکیج میں پراٹ اینڈ وٹنی کے 49 F135-PW-100 انجن، خفیہ مواصلاتی آلات اور دیگر معاون خدمات شامل ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مجوزہ فروخت امریکی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے مقاصد میں معاونت کرے گی، جبکہ سعودی عرب کی سلامتی اور خلیجی خطے میں استحکام کو تقویت ملے گی۔
محکمہ خارجہ نے کہا کہ معاہدے سے خطے میں فوجی توازن تبدیل نہیں ہوگا اور سعودی عرب میں امریکی حکومت یا ٹھیکیداروں کے اضافی اہلکار تعینات کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
ٹیکساس کے شہر فورٹ ورتھ میں قائم لاک ہیڈ مارٹن ایئروناٹکس اور کنیکٹی کٹ کے شہر ایسٹ ہارٹ فورڈ میں قائم پراٹ اینڈ وٹنی ملٹری انجنز اس معاہدے کے مرکزی ٹھیکیدار ہوں گے۔
امریکی قانون کے تحت کانگریس کے ارکان کو باضابطہ اطلاع ملنے کے بعد مجوزہ فروخت کا جائزہ لینے یا اس پر اعتراض کرنے کے لیے 30 دن حاصل ہوں گے، جس کے بعد انتظامیہ معاہدہ حتمی شکل دے سکتی ہے۔
یہ منظوری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کو یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کی سرگرمیوں کے باعث سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے۔ معاملے سے واقف تین ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف فوجی مدد طلب کی تھی، کیونکہ گروپ نے بحیرہ احمر کے لیے خطرہ بڑھا دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے گزشتہ جمعرات کو سعودی ولی عہد سے کم از کم دو مرتبہ ٹیلی فون پر بات کی، تاہم حوثیوں کے خلاف امریکی حملوں پر اتفاق نہیں کیا۔ واشنگٹن نے ریاض کو انٹیلی جنس شیئرنگ اور اہداف سے متعلق معاونت کی پیشکش کی۔
امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ واشنگٹن سعودی عرب اور یمنی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ ان کے مطابق امریکا بحیرہ احمر میں آزادانہ آمدورفت کے تحفظ اور علاقائی شراکت داروں کو سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں معاونت پر توجہ دے رہا ہے۔
دو ذرائع کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر بھی جمعرات کو سعودی عرب پہنچے، جہاں انہوں نے بات چیت کی۔





