اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سعودی عرب پر یمن کے حوثی گروپ کے حملوں کی مذمت کی ہے، جن میں شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا اور خواتین اور بچوں سمیت شہری زخمی ہوئے۔
سلامتی کونسل کے ارکان نے سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل حملوں اور بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف حملوں اور دھمکیوں کی مذمت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بحری جہازوں اور ان کے عملے کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔
سلامتی کونسل نے حوثیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر فوجی کشیدگی اور شہریوں اور شہری تنصیبات کو متاثر کرنے والے حملے بند کریں۔
ارکان نے تشدد کے دوران شہریوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور کے مطابق ستمبر کے آغاز سے یمن میں کم از کم ایک لاکھ 25 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
سلامتی کونسل نے خبردار کیا کہ مزید کشیدگی یمن کی انسانی صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہے اور مکمل، محفوظ، تیز اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی رسائی کا مطالبہ کیا۔
سلامتی کونسل نے زیر حراست افراد کی غیر مشروط رہائی کا بھی مطالبہ کیا، جن میں اقوام متحدہ کے 73 اہلکار اور غیر سرکاری تنظیموں، سول سوسائٹی گروپس اور سفارتی مشنز کے کارکن شامل ہیں۔
ارکان نے یمنی حکومت کے ساتھ عملی تعاون پر زور دیا تاکہ حوثیوں کو فوجی سرگرمیوں کے لیے ہتھیار، تکنیکی معاونت، تربیت اور مالی معاونت حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے تمام رکن ممالک کو ہدفی اسلحہ پابندی کے تحت اپنی ذمہ داریاں بھی یاد دلائیں۔
سلامتی کونسل نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے تحت اس کے اپنے دفاع کے فطری حق کی توثیق کی۔
ساتھ ہی ارکان نے یمن کی وحدت، خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار امن تشدد، جبر یا طاقت کے استعمال سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
سلامتی کونسل نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ کی مذاکراتی، جامع اور یمنی قیادت میں سیاسی تصفیے کی کوششوں کی حمایت کی اور فریقین پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قیادت میں جاری کوششوں کے ساتھ تعمیری انداز میں تعاون کریں۔





