اسلام آباد: یورپی یونینکے سفیر رائمونڈاس کاروبلس نے کہا ہے کہ پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ حاصل کرنے کے لیے ضروری مختلف قوانین اور کنونشنز پر عمل درآمد اور قانون سازی میں پیش رفت دکھانا ہوگی۔
یورپی یونین کے سفیر نے یہ بات جمعہ کو لاہور میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (ایپٹما) کی قیادت کے ساتھ ایک ملاقات میں کہی، جس میں 2027 کے بعد جی ایس پی پلس میں توسیع کے لیے طریقہ کار اور ذرائع وضع کرنے پر غور کیا گیا۔
انہوں نے کاروباری برادری بالخصوص برآمد کنندگان پر زور دیا کہ وہ مطلوبہ کنونشنز پر عمل درآمد کے لیے فوری اقدامات کریں اور یورپی یونین کمیشن کے تحفظات، خصوصاً انسانی اور مزدوروں کے حقوق، حکمرانی اور ماحولیاتی مسائل سے متعلق امور کے حوالے سے حکومت کے ساتھ رابطہ کریں تاکہ آئندہ دس سال کے لیے جی ایس پی پلس میں توسیع کی راہ ہموار ہو سکے۔ سفیر نے پائیداری سے متعلق امور کی تعمیل کرنے پر ٹیکسٹائل صنعت کو سراہا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایپٹماکے چیئرمین کامران ارشد نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور جی ایس پی پلس کی سہولت نے پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو خطے میں مسابقت کے قابل بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس نے پاکستان کو اپنی 78 فیصد مصنوعات یورپی یونین کے ممالک میں ڈیوٹی فری حیثیت کے ساتھ برآمد کرنے کے قابل بنایا ہے اور بالآخر یورپی یونین کو برآمدات میں اپنا حصہ بڑھانے میں مدد دی ہے، جس کے نتیجے میں روزگار، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی میں بہتری کے ساتھ ساتھ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔
کامران نے کہا کہ اس سہولت نے پاکستان کے گرین مستقبل اور زیرو کاربن اخراج کے ہدف میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے، کیونکہ توقع ہے کہ متعدد ٹیکسٹائل کمپنیاں 2050 تک صفر خالص کاربن اخراج حاصل کر لیں گی۔
پاکستان کے معاشی استحکام تک GSP plus کی سہولت جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے، APTMA کے چیئرمین نے کہا کہ مزید تنوع کے ذریعے ملک کی برآمدات اس سہولت سے مزید فوائد حاصل کر سکتی ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ GSP Plus واپس لیے جانے سے پاکستان کی برآمدات میں شدید کمی آئے گی اور اس کے حریفوں کے مقابلے میں حاصل برتری اور مسابقتی حیثیت بھی ختم ہو جائے گی۔ صنعت کو سالانہ ایک ٹریلین روپے سے کم کا نقصان نہیں ہوگا اور اسے بڑے پیمانے پر بے روزگاری، ملوں کی بڑے پیمانے پر بندش اور غربت میں اضافے کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔
چیئرمین نارتھ اسد شفیع نے دورہ کرنے والے یورپی یونین کے سفیر کو بتایا کہ ٹیکسٹائل صنعت نے اپنے توسیعی منصوبے کے تحت یورپی یونین کے رکن ممالک سے اربوں ڈالر مالیت کی ٹیکسٹائل مشینری درآمد کی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ GSP Plus کی سہولت مستقبل میں بھی توسیع دی جائے گی تاکہ پاکستان کو غربت کے خاتمے اور کارکنوں کی مہارت میں اضافے کے باعث ان کی گھر لے جانے والی تنخواہوں میں بہتری میں مدد مل سکے۔ انہوں نے سفیر پر زور دیا کہ GPS Plus واپس لیے جانے سے قبل بھارت-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے (FTA) کے طرز پر پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان FTA کو جلد حتمی شکل دینے میں سہولت فراہم کریں۔





