واشنگٹن: امریکی اخبار 'نیویارک ٹائمز' کی جمعے کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، حالیہ مہینوں کے دوران ایران اور چین کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے کچھ گروہوں نے سوشل میڈیا پر اثر و رسوخ بڑھانے کی مہمات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ایجنٹس کا استعمال کیا ہے۔ اس انکشاف نے امریکی حکام اور سائبر سیکیورٹی محققین میں انسانی مداخلت کے بغیر اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے متعلق خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان مہمات میں آن لائن امور انجام دینے کی صلاحیت رکھنے والے خودکار ایجنٹس کی تیاری کے لیے مفت دستیاب چینی اے آئی ماڈلز کا سہارا لیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک، ایکس اور ٹک ٹاک سمیت امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جعلی اکاؤنٹس کا نیٹ ورک قائم کرنے کے لیے ایسے سینکڑوں ایجنٹس متحرک کیے گئے تھے۔
ان اے آئی ایجنٹس کے ذریعے ان اکاؤنٹس پر سیاست اور جاری امور سے متعلق پوسٹس شیئر کی جاتی تھیں، جبکہ آن لائن پیغامات اور رابطوں کو بھی منظم کیا جاتا تھا۔
امریکی حکام اور محققین نے اس سرگرمی کو ان پہلے معلوم واقعات میں سے ایک قرار دیا ہے جن میں چینی ماڈلز پر مبنی اے آئی ایجنٹس کو اثر و رسوخ کی مہم کے تقریباً تمام مراحل میں استعمال کیا گیا۔
اگرچہ ان مہمات کو نسبتاً ابتدائی نوعیت کا قرار دیا گیا ہے، لیکن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عوام کے لیے دستیاب اے آئی نظام کس طرح ان آپریشنز کو خودکار بنا سکتے ہیں جن کے لیے پہلے بڑے پیمانے پر انسانی وسائل کی ضرورت ہوتی تھی۔
رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سائبر سیکیورٹی محققین نے اس سرگرمی کی تحقیقات کی اور چینی و ایرانی آپریشنز کا سراغ ریاست کی سرپرستی میں کام کرنے والے عناصر تک لگایا۔
ایرانی مہم میں امریکی عوام کو ہدف بنایا گیا تھا، جہاں اے آئی کے تیار کردہ اکاؤنٹس خود کو بڑے شہروں کے عام امریکی شہریوں کے طور پر پیش کرتے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ ان اکاؤنٹس نے مقبول میمز شیئر کیں، صحافیوں اور سیاست دانوں کو ٹیگ کیا، اور ریپبلکن پارٹی پر تنقید کرنے والے نقطہ نظر کو فروغ دیا۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال کی پہلی چھ ماہی کے دوران متحرک رہنے والے ان اے آئی ساختہ اکاؤنٹس کے فالوورز کی تعداد تقریباً 80 ہزار تھی۔





