لاس اینجلس: دی سوشل نیٹ ورک کے سولہ سال بعد مارک زکربرگ اور فیس بک ایک بار پھر ایرون سورکن کی فلم دی سوشل ریکننگ کے ذریعے اسکرین پر واپس آ رہے ہیں۔ فلم میں سیاسی مواد اور نفرت انگیز تقاریر سے متعلق کمپنی کی پالیسیوں اور عوامی مباحثے پر ان کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
فلم کی کہانی فیس بک کی وسل بلوئر فرانسس ہوگن اور وال اسٹریٹ جرنل کے صحافی جیف ہوروِٹز کے گرد گھومتی ہے۔ ہوگن کا کردار مائیکی میڈیسن جبکہ ہوروِٹز کا کردار جیریمی ایلن وائٹ ادا کر رہے ہیں۔ دونوں کے کام نے 2021 میں فیس بک کی اندرونی دستاویزات پر مبنی ’فیس بک فائلز‘ کی اشاعت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
جیریمی اسٹرونگ فلم میں زکربرگ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس سے قبل 2010 کی فلم دی سوشل نیٹ ورک میں یہ کردار جیسی آئزنبرگ نے ادا کیا تھا۔ پہلی فلم کا اسکرپٹ لکھنے والے سورکن کے مطابق نئی فلم میں زکربرگ کے محرکات کے بجائے فیس بک میں کیے گئے فیصلوں کے نتائج پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔
فلم میں زیر بحث آنے والے معاملات میں 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات سے قبل سیاسی اشتہارات کی فیکٹ چیکنگ سے متعلق فیس بک کی پالیسی بھی شامل ہے۔ اس معاملے کو سیاسی تقسیم اور مواد کی ترسیل میں پلیٹ فارم کے کردار کے وسیع تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔
دی سوشل نیٹ ورک کی ہدایت کاری ڈیوڈ فنچر نے کی تھی، جبکہ دی سوشل ریکننگ کی ہدایت کاری خود سورکن نے کی ہے۔ 2010 میں ریلیز ہونے والی دی سوشل نیٹ ورک نے تین اکیڈمی ایوارڈز جیتے تھے اور اس کی کہانی فیس بک کے قیام اور اس کے آغاز سے متعلق تنازعات پر مبنی تھی۔
سورکن نے نئی فلم کو وسل بلوئر اور صحافت، دونوں کی کہانی قرار دیا ہے۔ فلم میں ہوگن اور ہوروِٹز کے کرداروں اور فیس بک کی اندرونی دستاویزات کو عوام کے سامنے لانے میں ان کے کام پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
دی سوشل ریکننگ ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب ہالی ووڈ میں ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ان کے سربراہان سے متعلق کہانیوں پر فلمیں بنائی جا رہی ہیں، جن میں سیم آلٹ مین اور ایلون مسک سے متعلق منصوبے بھی شامل ہیں۔
دی سوشل ریکننگ بدھ سے بین الاقوامی سینما گھروں میں ریلیز ہونا شروع ہوگی۔





