سیؤل: جنوبی کوریا کے صدر لی جے میانگ نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں فوجی مداخلت اور افواج کی تعیناتی کو حتمی طور پر مسترد کر دیا ہے۔ جمعے کے روز صدارتی بلیو ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر لی نے تین بار اس بات کا اعادہ کیا کہ سیؤل عدم مداخلت کی اپنی سخت پالیسی پر قائم رہے گا۔
اگرچہ سیؤل تجارتی بحری راستوں اور شہریوں کی حفاظت کے لیے اہم بحری گزرگاہوں میں ڈکیتی مخالف 'چیونگائے یونٹ' کو تقویت دینے سمیت بحری سرگرمیوں میں توسیع کے اختیارات کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم صدر لی نے زور دیا کہ جنوبی کوریا کے اہلکاروں کو کسی غیر ملکی کمان کے تحت نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی جنگی علاقوں میں تعینات کیا جائے گا۔ ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوجی کارروائیوں میں اتحادیوں کی عدم شرکت پر شدید ناگواری کے اظہار کے بعد سامنے آیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ صدر لی نے تصدیق کی کہ سیؤل، واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان ممکنہ سربراہی مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے بیک ڈور سفارتی کوششوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ جوہری مذاکرات میں سیؤل کو نظر انداز کیے جانے کے خدشات کا جواب دیتے ہوئے صدر لی نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور شمالی کوریا کے قائد کم جونگ ان کے درمیان براہ راست بات چیت ہی بین الکوریائی مواصلات اور رابطوں کو دوبارہ بحال کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
اندرونی معاملات پر بات کرتے ہوئے صدر لی نے صدارتی مدت میں توسیع کے لیے آئینی ترمیم سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا، جبکہ ان کی حکومت معاشی پالیسی، ٹیرف مذاکرات اور رئیل اسٹیٹ اصلاحات پر اندرونی سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔





