راولپنڈی: ڈیجیٹل ڈیزائنر حنا جاوید کے قتل کی تحقیقات کرنے والی پولیس نے لال کرتی قتل کیس میں اہم شواہد حاصل کر لیے ہیں۔ تھانہ سول لائنز میں 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کے دوران تفتیشی حکام نے ملزم ذیشان ارشد کے قبضے سے آلۂ قتل (پیچ کس) اور واردات میں استعمال ہونے والی رسی برآمد کر لی ہے۔
مزید برآں، تفتیشی ٹیم نے مرکزی ملزم اور مقتولہ کے سابق شوہر فیصل اصغر کی دونوں بیویوں کے نکاح نامے اور اس کی پہلی بیوی ارم زیب کا طلاق نامہ بھی تحویل میں لے لیا ہے۔ گرفتار دونوں ملزمان کا تفصیلی فارنزک معائنہ کیا گیا ہے جس میں ڈی این اے نمونے اور پولی گراف ٹیسٹ بھی شامل ہیں۔ ملزمان کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر پولیس انہیں بدھ 2 ستمبر کو چوتھی بار مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرے گی۔ قانونی ماہرین کے مطابق، ابتدائی شواہد کی جمع آوری مکمل ہونے کے بعد پراسیکیوشن کی جانب سے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل کرنے کی استدعا کا امکان ہے۔
دوسری جانب تفتیشی افسران نے تیسرے ملزم یعنی مقتولہ کے سسر کی گرفتاری کے لیے سینئر پولیس قیادت سے باقاعدہ اجازت مانگ لی ہے۔ ساتھ ہی ملزمان کے وکلائے صفائی آنے والی پیشی سے قبل حکام سے درخواست کر رہے ہیں کہ مقتولہ کے سسر کا نام کیس فائل سے نکال کر انہیں مقدمے سے بری کیا جائے۔





