اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے کسی بھی علاقے میں بجلی کی لوڈشیڈنگ دو گھنٹے سے زیادہ نہ ہونے دینے کی ہدایت کردی۔
وزیراعظم نے یہ ہدایت اسلام آباد میں بجلی کی لوڈ مینجمنٹ سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی، جس میں ملک میں بجلی کی طلب اور رسد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ علاقائی صورتحال، آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور ترسیلی مشکلات کے باعث آر ایل این جی کی فراہمی میں رکاوٹوں کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار میں کمی آئی ہے، جس کے باعث طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھنے کے لیے لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑ رہی ہے۔
شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو آر ایل این جی کی فراہمی میں رکاوٹیں فوری دور کرنے اور دستیاب تمام وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی ہدایت کی، تاکہ کسی بھی علاقے میں لوڈشیڈنگ دو گھنٹے کی مقررہ حد سے تجاوز نہ کرے۔
وزیراعظم نے بجلی کی فراہمی اور دیگر متعلقہ مسائل پر عوامی شکایات کے ازالے کے لیے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی سطح پر صارفین کی شکایات کے ازالے کی کمیٹیاں قائم کرنے کا بھی حکم دیا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ ان کمیٹیوں میں عوامی نمائندوں کو شامل کیا جائے اور انہیں ایک ہفتے کے اندر فعال کیا جائے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ بجلی صارفین ہیلپ لائن 118 کے ذریعے اپنی شکایات درج کرا سکتے ہیں، جس کے بعد انہیں شکایت کا ٹوکن نمبر اور مسئلے کے حل کے لیے متوقع وقت فراہم کیا جاتا ہے۔
حکام نے اجلاس کو مزید بتایا کہ مون سون بارشوں کے باعث ملک بھر میں بجلی کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی، تاہم ضلع راجن پور میں چھ صارفین کی بجلی متاثر ہوئی ہے۔
وزیراعظم نے حکام کو دستیاب وسائل بروئے کار لانے اور بجلی کی فراہمی میں رکاوٹیں دور کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے لوڈشیڈنگ کو مقررہ دو گھنٹے کی حد تک محدود رکھنے پر زور دیا۔





