اسلام آباد: پاکستان اور قطر نے مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے ذریعے علاقائی تجارتی و ترانزٹ روابط کے فروغ پر بات چیت کی ہے، جس کے تحت ایک ممکنہ تجارتی راہداری پاکستان کو ترکیہ اور یورپی منڈیوں سے جوڑ سکتی ہے۔
یہ بات چیت بیلٹ اینڈ روڈ سربراہی اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان اور علاقائی ہم منصبوں کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کے دوران ہوئی، جن میں تجارت، مواصلاتی روابط، غذائی تحفظ اور جدید ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
قطر کے وزیر مملکت برائے غیر ملکی تجارتی امور احمد بن محمد السید سے ملاقات کے دوران جام کمال نے علاقائی صورتحال اور اس کے معاشی اثرات پر گفتگو کی۔ دونوں فریقین نے بیلٹ اینڈ روڈ پہل کاری کے تحت ترانزٹ اور تجارت کے نئے مواقع کا بھی جائزہ لیا۔
وزرا نے مشرقِ وسطیٰ کے ذریعے ترکیہ اور یورپ تک پھیلنے والے وسیع علاقائی تجارتی راستوں کے ذریعے پاکستان اور قطر کو جوڑنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے اور معاشی تعاون کے نئے شعبے تلاش کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
جام کمال نے سری لنکا کے وزیر برائے تجارت، غذائی تحفظ اور ترقی وسنتھا سمارا سنگھے سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے سری لنکا کے ساتھ پاکستان کے پہلے آزادانہ تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے مؤثر استعمال سمیت دوطرفہ تجارت کو مضبوط بنانے پر گفتگو کی۔
ملاقات میں کاروباری اداروں اور عوامی سطح پر روابط، انفراسٹرکچر اور غذائی تحفظ پر بھی بات کی گئی۔ سری لنکن وزیر نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور سائبر سیکیورٹی کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر زور دیا، جبکہ جام کمال نے معاشی ترقی میں ڈیجیٹلائزیشن کے کردار اور ترقی پذیر ممالک کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
پاکستان نے منڈی تک رسائی میں بہتری کے لیے پاکستانی کینو کی ازسرنو درجہ بندی میں تعاون پر سری لنکا کا شکریہ ادا کیا۔ دوسری جانب سری لنکا نے اپنے اناناس، ایوکاڈو اور کنگ کوکونٹ کی برآمد کے حوالے سے پاکستان کے تعاون کو سراہا۔
بنگلہ دیش کے وزیر برائے تجارت، صنعت، ٹیکسٹائل و پٹ سن خندکار عبدالمقتدر سے ایک الگ ملاقات میں جام کمال نے دوطرفہ تجارت اور معاشی تعاون کے فروغ پر بات چیت کی۔
وفاقی وزیر تجارت نے بنگلہ دیش کو پاکستانی چاول کی برآمدات کو بڑھتی ہوئی تجارت کی مثال کے طور پر پیش کیا اور کہا کہ ٹیکسٹائل سمیت دیگر شعبوں میں بھی تجارتی تنوع لانے کی گنجائش موجود ہے۔ بنگلہ دیشی وزیر نے صنعتی مہارت کے تبادلے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے میں دلچسپی ظاہر کی۔
دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بیلٹ اینڈ روڈ پہل کاری اور مضبوط علاقائی روابط سے تجارت اور معاشی ترقی کو تقویت مل سکتی ہے۔
جام کمال نے 2025 میں قائم ہونے والی 'انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار میڈی ایشن' کی سیکریٹری جنرل ٹریسا چن سے بھی ملاقات کی۔ ٹریسا چن نے انہیں تنظیم کے کام اور بانی و معاہدہ فریق رکن کے طور پر پاکستان کے کردار سے آگاہ کیا۔
ملاقات میں حکومتوں اور نجی اداروں کے مابین تنازعات کے حل میں ثالثی کے کردار کا جائزہ بھی لیا گیا۔





