اسلام آباد: پولیو کے خاتمے کے لیے قائم قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) نے پاکستان میں رواں سال کے چوتھے پولیو کیس کی تصدیق کی ہے، تازہ ترین کیس خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں سے سامنے آیا ہے۔
قومی پولیو پروگرام کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق متاثرہ بچہ تحصیل میریان کی یونین کونسل نورار کا رہائشی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی خدشات اور رسائی کی مشکلات کے باعث 2025 سے ویکسینیشن ٹیمیں علاقے کے بچوں تک باقاعدگی سے نہیں پہنچ پا رہی ہیں۔
رواں سال رپورٹ ہونے والے چار میں سے تین کیسز جنوبی خیبر پختونخوا سے سامنے آئے ہیں۔ حکام کے مطابق خطے میں سیکیورٹی چیلنجز کے باعث بہت سے بچے بنیادی ویکسینیشن سے محروم رہ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ملک بھر میں وائرس میں کمی کے باوجود مقامی سطح پر وائلڈ پولیو وائرس کا پھیلاؤ برقرار ہے۔
رواں سال کا پہلا کیس سندھ کے ضلع سجاول کی یونین کونسل بیلو کے چار سالہ بچے میں سامنے آیا تھا، جبکہ باقی دو کیسز بنوں اور شمالی وزیرستان سے رپورٹ ہوئے تھے۔
پولیو پروگرام کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے 1990ء کی دہائی کے اوائل کے مقابلے میں پولیو کیسز میں 99.8 فیصد تک کمی کی ہے، جب سالانہ تقریباً 20,000 کیسز رپورٹ ہوتے تھے جو 2025 میں گھٹ کر 31 رہ گئے۔ تاہم 2026 میں اب تک چار کیسز رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔
تازہ ترین کیس کی تصدیق کے بعد حکومتی پولیو اریڈیکیشن انیشی ایٹو نے ملک بھر میں مضبوط نگرانی اور مکمل ویکسینیشن کوریج کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
پاکستان میں رواں سال اب تک تین بڑے پیمانے پر پولیو مہمات چلائی جا چکی ہیں۔ اگلی ملک گیر گھر گھر پولیو مہم 21 سے 27 ستمبر تک چلائی جائے گی، جس کا ہدف جنوبی خیبر پختونخوا کے سیکیورٹی سے متاثرہ علاقوں سمیت تقریباً 3 کروڑ 10 لاکھ بچوں کو قطرے پلانا ہے۔ والدین اور سرپرستوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بچوں کو مستقل معذوری سے بچانے کے لیے آنے والی مہم اور مستقبل میں ہر بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوائیں۔





