پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان 7 ارب ڈالر کے توسیع شدہ فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت جائزاتی مذاکرات اور باضابطہ آرٹیکل IV مشاورت 22 ستمبر سے کراچی اور اسلام آباد میں شروع ہو گی۔ آئی ایم ایف کے مقیم مشن چیف ماہر بنچی اور پاکستانی سرکاری ذرائع کی تصدیق کے مطابق یہ دوطرفہ مذاکراتی عمل دو ہفتوں پر محیط ہو گا۔
آئندہ آرٹیکل IV مشاورت دو سال کے وقفے کے بعد پاکستانی معیشت کی مجموعی صورتحال کا آئی ایم ایف کے عملے کی جانب سے پہلا جامع جائزہ ہو گی، جس سے قبل آخری مشاورت ستمبر 2024ء میں ہوئی تھی۔ وفد کی آمد سے قبل، حکومت نے درآمدات کے سابقہ اربوں ڈالر کے فرق کو دور کرنے کے لیے ترمیم شدہ ماہانہ اور سالانہ ڈیٹا جمع کرا دیا ہے۔ مذاکرات میں گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگنوسٹک اسیسمنٹ (جی سی ڈی) رپورٹ پر پاکستان کی عملدرآمدی حکمت عملی کے جائزے پر بھی توجہ مرکوز کی جائے گی۔





