کوئٹہ: وزیر داخلہ بلوچستان ضیاء اللہ لانگو نے دہرایا ہے کہ صوبائی حکومت نے کبھی سیاسی مذاکرات سے انکار نہیں کیا، تاہم بندوق کے سائے میں بات چیت نہیں ہو سکتی۔ اتوار کے روز کوئٹہ میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ ریاست کسی بھی مسلح گروہ کو تشدد یا دباؤ کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے کی اجازت نہیں دے گی۔
ضیاء اللہ لانگو نے تمام فریقین بالخصوص نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مسلح مزاحمت ترک کر کے تعلیم، ترقی اور جمہوری عمل کا راستہ اختیار کریں۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ پاکستان کے آئین اور حکمرانی کا ڈھانچہ تسلیم کرنے والے ہر شخص کے لیے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، انہوں نے اس تاثر کو سختی سے رد کر دیا کہ کوئی بھی ریاست مسلح دباؤ کے تحت اپنے آئینی نظام کو کمزور کر سکتی ہے۔
ان کا یہ بیان مستونگ اور قلات جیسے اضلاع میں کشیدہ سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جو سیاسی مفاہمت اور سیکیورٹی اقدامات کے مابین صوبائی حکومت کی واضح پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔





