اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کی فوری منسوخی کا مطالبہ کرتے ہوئے 20 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف ملک گیر لانگ مارچ کا اعلان کر کے وفاقی حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ جمعے کے روز گجرانوالہ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ عوام کے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں جماعت اسلامی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے مزید وسیع تحریک شروع کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لاہور، پشاور اور کراچی سمیت ملک کے اہم شہری مراکز میں ایندھن پر ٹیکسوں کے خلاف جماعت اسلامی کے دھرنے مسلسل 27ویں روز میں داخل ہو گئے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے پیٹرول پر فی لیٹر مجموعی طور پر 114 روپے اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکسز و ڈیوٹیز عائد کرنے پر وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے پی ڈی ایل کو ایک ظالمانہ "جگا ٹیکس" قرار دیا جس سے قومی خزانے میں 1567 ارب روپے سے زائد رقم تو جمع ہوئی لیکن عام شہریوں کی کمر ٹوٹ کر رہ گئی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے ملک کے مجموعی معاشی نظام کو بھی نشانہ بناتے ہوئے حکمران طبقے پر آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو فائدے پہنچانے، وفاقی اخراجات برقرار رکھ کر 18ویں ترمیم پر عملدرآمد میں ناکامی اور سود سے پاک بینکاری جیسے متبادل مالیاتی اصلاحات کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے اپنی ٹیکس پالیسیوں پر نظرثانی سے انکار کیا تو 20 ستمبر کو ملک بھر سے قافلے وفاقی دارالحکومت کی طرف پیش قدمی کریں گے۔





