اسلام آباد: خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی نے جمعہ 11 ستمبر 2026 کو کثرتِ رائے سے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 (سنگین غداری) کے تحت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ صوبائی وزیرِ قانون آفتاب عالم آفریدی کی جانب سے ایوان کی معمول کی کارروائی معطل کر کے پیش کی جانے والی اس قرارداد کا پس منظر مریم نواز کا وہ متنازع بیان ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پنجاب کو "ہمسایہ ممالک سے زیادہ ہمسایہ صوبوں" سے سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے اور دہشت گردی صوبائی سرحدوں کے ذریعے پنجاب میں داخل ہوتی ہے۔
سرکاری بنچوں کے اراکین اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے نمائندوں نے ان بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام کی توہین قرار دیا اور کہا کہ اس قسم کی گفتگو وفاقی یکجہتی کو نقصان پہنچاتی ہے اور سرحد پار دہشت گردی سے متعلق پاکستان کے دیرینہ سفارتی بیانیے کے منافی ہے۔
اس کے جواب میں، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکنِ اسمبلی آمنا سردار نے وزیر اعلیٰ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز نے کبھی پختونوں کا ذکر نہیں کیا، اور دعویٰ کیا کہ سرکاری بنچ ان کے بیان کو غلط رنگ دے کر اور مروڑ کر اس پر سیاست کر رہے ہیں۔





