طائف: سعودی عرب کے طائف ایئربیس پر حملوں کے دوران ایک اطالوی F 2000 جنگی طیارہ زد میں آیا، تاہم اٹلی کے مطابق وہاں موجود تمام اطالوی فوجی اہلکار محفوظ رہے۔
اطالوی وزیر دفاع گوئیدو کروسیٹو نے جمعہ کو بتایا کہ طائف ایئربیس، جہاں اٹلی کے فوجی اہلکار آپریشن انہیرنٹ ریزولو کے تحت تعینات ہیں، متعدد حملوں کا نشانہ بنی۔ ان کے مطابق اطالوی F 2000 طیارہ بیس کے ایک نسبتاً دور واقع حصے میں موجود تھا جب اسے حملے میں نقصان پہنچا۔
کروسیٹو نے کہا کہ اطالوی اہلکاروں کے زیر استعمال دیگر گاڑیوں یا بنیادی ڈھانچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ انہوں نے اٹلی کی مسلح افواج کے اعلیٰ حکام سے صورتحال، اہلکاروں کی حفاظت اور ممکنہ آئندہ اقدامات کے بارے میں مزید جائزہ لینے کو بھی کہا ہے۔
اٹلی کی وزارت دفاع نے طیارے کو پہنچنے والے نقصان کی شدت یا اس کی آپریشنل حالت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ وزارت کے بیان میں حملے کی ذمہ داری بھی کسی مخصوص گروہ پر عائد نہیں کی گئی۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروہ کے درمیان حملوں میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے۔ سعودی حکام نے حالیہ دنوں میں ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات دی ہیں، جبکہ حوثیوں سے منسوب حملوں میں سعودی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
17 ستمبر کو سعودی سول ڈیفنس نے بتایا تھا کہ طائف کے علاقے میں ایک ڈرون کو روکنے کے بعد گرنے والے ملبے سے ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق زخمیوں میں ایک پاکستانی شہری بھی شامل تھا۔
طائف میں اطالوی طیارے کا متاثر ہونا اس لیے اہم ہے کہ حالیہ کشیدگی کا دائرہ صرف سرحدی یا شہری اہداف تک محدود نہیں رہا بلکہ خطے میں موجود غیر ملکی فوجی اہلکاروں اور عسکری اثاثوں کی سلامتی کا سوال بھی سامنے آ رہا ہے۔





