اسلام آباد: ایک چینی کمپنی نے اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی کے دوران بچے کی جان بچانے پر نرس رضیہ نورین کو 10 لاکھ روپے کا نقد انعام دیا ہے۔
کمپنی کی چیئرپرسن ین جن نے نرس رضیہ نورین کی بہادری اور انسانی ہمدردی کے اعتراف میں انہیں 10 لاکھ روپے کا چیک پیش کیا۔ اس موقع پر ین جن نے نرس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی خدمت کے مترادف ہے۔ انہوں نے مشکل اور خطرناک حالات میں رضیہ نورین کے فرض شناسی کے جذبے کو سراہا۔
یہ تقریب پمز نرسری وارڈ میں لگنے والی اس خوفناک آگ کے بعد منعقد کی گئی جس میں 14 نوزائیدہ بچے جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور ہسپتال میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات پر سنگین سوالات اٹھائے گئے۔ واقعے میں جان بحق ہونے والے ایک بچے کی والدہ نے بھی اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ حادثے میں کسی ڈاکٹر کو نقصان نہیں پہنچا بلکہ صرف معصوم بچے ہی اس کا شکار ہوئے۔
واقعے کے بعد کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے فائر ڈیپارٹمنٹ نے پمز میں فائر سیفٹی کے انتظامات سے متعلق ایک رپورٹ جمع کرائی۔ رپورٹ کے مطابق ہسپتال میں اگ بجھانے اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے کیے گئے انتظامات بالکل ناکافی تھے۔ مزید برآں، رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ ایمرجنسی راستے باہر سے مستقل طور پر بند تھے، جس سے ایمرجنسی کی صورت میں مریضوں اور عملے کے نکلنے کے نظام پر سنگین خدشات پیدا ہوئے۔
ان تمام حالات کے باوجود نرس رضیہ نورین کے جرات مندانہ اقدام کی بھرپور تعریف کی جا رہی ہے۔ اس واقعے نے ہنگامی حالات کے دوران ہیلتھ کیئر ورکرز کے اہم کردار کو اجاگر کیا ہے، خاص طور پر نوزائیدہ بچوں کے شعبوں میں جہاں فوری امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسری جانب سی ڈی اے کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے نظام اور ہنگامی راستوں کو بہتر بنانے کے مطالبات میں اضافہ ہو گیا ہے۔





