اسلام آباد: جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران اور امریکا کے درمیان تنگہ ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کا سب سے بڑا تبادلہ ہوا ہے۔ امریکا کے مطابق اس نے پانچ ایرانی تیل بردار جہاز تباہ کر دیے ہیں، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے پیر سے نافذ العمل اپنی سمندری ممنوعہ حدود کو توڑنے کی کوشش کرنے والے دس جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ تنگہ ہرمز میں جہاز رانی پر امریکی حملوں کے تازہ ترین دور کے بدلے کے طور پر کویتی اور بحرینی بندرگاہوں میں موجود جہازوں کو نشانہ بنائے گا۔ پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے مطابق اس نے امریکی حملوں کے جواب میں اس سے قبل دو جنگی اور آٹھ تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا تھا، اور اب امریکا کے ہر ایک حملے کے بدلے دو حملے کیے جائیں گے۔
بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاسداران انقلاب کے بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا کہ ایران اب اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں "اگر دشمن ہمارے دو یا تین اہداف کو نشانہ بناتا ہے، تو ہم اس کا شدید جواب 20 اہداف پر دیں گے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "امریکی جنگی جہاز تنگہ ہرمز سے کم از کم 400 کلومیٹر پیچھے ہٹ چکے ہیں۔"
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آج گفتگو کرتے ہوئے کہا، "جی ہاں، یہ جوابی کارروائی بالکل واضح ہے؛ ایران مسلسل امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے، اور جب بھی وہ ایسا کرے گا، اسے اپنے آئل ٹینکرز سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ میرا خیال ہے کہ آج بھی آپ کو یہی صورتحال دیکھنے کو ملے گی۔"
ایران نے ایک قبضے میں لیے گئے امریکی غیر پائلٹ سمندری ڈرون کی ویڈیو فوٹیج بھی جاری کی ہے، جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ ساحلی پٹی کے قریب گشت کر رہا تھا۔





