اسلام آباد: اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (یو این ایچ آر سی) کے 63 ویں اجلاس میں شریک کشمیری مندوبین نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے فوری بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شمیم شال، مهر النساء، ڈاکٹر شگفتہ اشرف اور ڈاکٹر سجاد خان سمیت دیگر مندوبین نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق سے علاقے میں نگرانی بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مبینہ خلاف ورزیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی اپیل کی اور بھارت سے تقاضا کیا کہ وہ قانونی طریقہ کار اور جوابدہی کی پاسداری کرے۔
اپنے خطاب کے دوران مندوبین نے انسانی حقوق کے کارکنوں، بالخصوص خرم پرویز، اور خطے بھر کے سیاسی فعال کارکنوں کو ہراساں کیے جانے کے عمل پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بلاجواز گرفتاریوں اور آزادی اظہار پر عائد مسلسل پابندیوں کی جانب بھی توجہ دلائی۔
مندوبین کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق اگست 2026 تک 3,000 سے زائد کشمیریوں کو حراست میں لیا جا چکا تھا، جبکہ مقبوضہ علاقے کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں کی موجودگی کی نشان دہی کرتے ہوئے بتایا گیا کہ صرف 3,600 قیدیوں کی گنجائش رکھنے والی جیلوں میں اس وقت 5,300 افراد نظر بند ہیں۔
ان بیانات کی تفصیلات کشمیر میڈیا سروس نے شائع کی ہیں۔ مندوبین نے عالمی برادری سے ایک بار پھر زور دے کر مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کے ان مسائل کے حل اور علاقے میں بنیادی آزادیوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔





