ڈچ مرکزی بینک کے مطابق اس نے "بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی" کا حوالہ دیتے ہوئے امریکا اور کینیڈا سے اپنے 86 ٹن سونے کے ذخائر لندن منتقل کر دیے ہیں۔
ڈی نیدرلینڈشے بینک (ڈی این بی) کا کہنا ہے کہ نیویارک اور اوٹاوا کے مقابلے میں لندن میں رکھے گئے سونے کے ذخائر کی تجارت زیادہ آسانی سے کی جا سکتی ہے۔
بینک نے بدھ کے روز جاری ایک بیان میں کہا کہ "اس اقدام سے ڈی این بی کے لیے کسی بحرانی صورتحال میں سونے کا استعمال فوری طور پر ممکن ہو سکے گا۔"
ڈی این بی کے صدر اولاف سلیپین نے کہا، "اس قدم سے ہم نے سونے کے ذخائر کو بروئے کار لانے کی صلاحیت کو بہتر بنایا ہے۔ اگرچہ ہماری یہی توقع ہے کہ ہمیں سونا کبھی استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، لیکن اس کے باوجود اپنی صلاحیت اور تیاری کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔"
ڈی این بی کا کہنا ہے کہ 2025ء کے اختتام پر نیدرلینڈز کے سونے کے ذخائر کا کل حجم 612.4 ٹن تھا جس کی مالیت 83.7 ارب امریکی ڈالر تھی۔
اس منتقلی سے قبل ڈچ بینک اپنے سونے کا 31.3 فیصد حصہ نیویارک اور 19.7 فیصد حصہ اوٹاوا میں رکھتا تھا۔
یہ قدم فرانس کے قومی بینک کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جس کے تحت 2025 اور 2026 کے درمیان فیڈرل ریزرو بینک آف نیویارک سے 129 ٹن سونے کے بقایا ذخائر پیرس منتقل کیے جا رہے ہیں۔ یہ امر یورپی بینکوں کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ بحر اوقیانوس کے پار تجوریوں پر انحصار کرنے کے بجائے زیادہ تر سونا اپنے ملک یا اہم یورپی تجارتی مراکز میں رکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
بینک نے اپنے بیان میں مزید کہا: "اس منتقلی سے ہم نے اپنے سونے کے ذخائر کی خرید و فروخت کی صلاحیت کو بہتر بنایا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمیں اسے کبھی استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، لیکن ہمیں اپنی مضبوطی اور تیاری کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔"





