ویب ڈیسک: ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ نیا سمندری محدود علاقہ ایرانی بندرگاہ چابہار سے خلیج عمان کے کچھ حصوں اور بحیرہ عرب تک پھیلے گا۔ ایران بعد میں اس علاقے کی درست حدود اور نقشہ جاری کرے گا۔
یہ اعلان ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کے اس بیان کے چند روز بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے آبنائے ہرمز سے باہر ایک محدود سمندری علاقہ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں داخل ہونے والے جہازوں پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں اور انہیں ایرانی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
یہ پیش رفت ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ہوئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی افواج نے 8 ستمبر کو پانچ ایرانی تیل بردار جہازوں کو تباہ کیا۔ امریکا کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے ایک امریکی جنگی جہاز پر دو میزائل حملوں کے بعد کی گئی۔ امریکی کمانڈ کے مطابق امریکی جنگی جہاز دونوں حملوں سے محفوظ رہا اور کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔
اس کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس کی افواج نے دو امریکی بحری جہازوں اور آٹھ تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا، جبکہ دیگر جہازوں کو بھی محدود قرار دیے گئے علاقے میں داخل ہونے پر نشانہ بنایا گیا۔
تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے امریکی جنگی جہازوں کو نقصان پہنچنے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔
دوسری جانب تجارتی جہاز رانی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق شمالی خلیج اور خلیج عمان میں کئی تجارتی جہاز فائرنگ سے متاثر ہوئے۔ ادارے نے کہا کہ جانی نقصان اور ماحولیاتی اثرات کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی اور تحقیقات جاری ہیں۔
ایک الگ واقعے میں پاناما کے پرچم بردار تیل بردار جہاز نیو اینڈروس کو عراقی سمندری حدود میں ڈرون سے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی۔ جہاز پر موجود 22 افراد محفوظ رہے۔
خلیج عمان آبنائے ہرمز کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے، اس لیے پابندیوں کا دائرہ اس علاقے تک بڑھنے سے بین الاقوامی تجارتی جہازوں اور توانائی کی ترسیل کے لیے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
اب اصل تشویش صرف یہ نہیں کہ کس فریق کا کون سا دعویٰ درست ہے، بلکہ یہ ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان سمندری کشیدگی کہیں خلیج سے نکل کر بحیرہ عرب تک وسیع تر بحران میں تبدیل نہ ہو جائے۔





