تہران: ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے اپنے ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں 77 بحری جہازوں کو تازہ فہرست میں شامل کردیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق یہ فہرست پیر کو جاری کی گئی۔
فہرست پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی نے جاری کی، جو ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے بحری جہازوں کی درخواستوں کو منظم کرنے اور آمد و رفت کی نگرانی کے لیے قائم کی ہے۔
اتھارٹی کے مطابق فہرست میں شامل جہازوں کو آئندہ گزرنے کے دوران جرمانے، حراست یا ضبطی سمیت مختلف پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اتھارٹی نے یہ بھی کہا کہ اس کے تقاضوں کے ساتھ تعاون کرنے والے جہازوں کو فہرست میں شامل کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب علاقائی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری آمد و رفت معمول سے نمایاں کم ہے۔ رائٹرز کے مطابق ہفتے کے اختتام پر صرف چار تجارتی جہاز خلیج سے باہر نکلے جبکہ 10 اندر داخل ہوئے، جب کہ گزشتہ 10 دن کی اوسط روزانہ 14 جہاز تھی۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ موجودہ تنازع سے قبل روزانہ تقریباً 125 بڑے تجارتی جہاز اس راستے سے گزرتے تھے، جن میں تیل بردار جہاز، گیس کیریئرز، مال بردار جہاز اور کنٹینر شپ شامل تھیں۔ یہ راستہ دنیا کی روزانہ خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی سپلائی کے تقریباً پانچویں حصے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
ایران کی نئی پابندیوں سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی شپنگ کمپنیوں کے لیے غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ سکتی ہے، جہاں سکیورٹی خطرات پہلے ہی بحری آمد و رفت کو متاثر کر رہے ہیں۔
عالمی توانائی منڈیوں کے لیے تشویش صرف ان 77 جہازوں تک محدود نہیں۔ آبنائے میں مزید پابندیوں یا خلل سے اس اہم تجارتی راستے سے گزرنا مشکل اور مہنگا ہوسکتا ہے، جس سے توانائی اور مال برداری کی لاگت پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔





