تہران: ایرانی سرکاری میڈیا نے منگل کو خبر دی ہے کہ ایران میں اسلامک ریوولیوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے ٹھکانوں پر امریکی افواج کے نئے حملوں کے بعد تہران نے خطے میں امریکی مواضع پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی 'فارس' کے مطابق امریکی مواضع پر میزائل اور ڈرون داغے جا رہے ہیں۔ ایجنسی نے نامعلوم عرب ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ اردن کے پرنس حسن اور موفق السلطی ایئر بیسز پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
آئی آر جی سی کا کہنا ہے کہ اردن میں امریکی میرین بیس کو صوبہ ہرمزگان میں سیریک کے قریب شادی کی ایک تقریب پر امریکی حملے کے جواب میں نشانہ بنایا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی میں متعدد امریکی اہلکار ہلاک اور کئی تنصیبات و حملہ آور ہیلی کاپٹر تباہ ہو گئے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے شادی کی تقریب پر ہونے والے حملے میں ہلاکتوں کی بھی اطلاع دی۔ خبر رساں ایجنسی ایسنا (ISNA) نے صوبائی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ روئٹرز نے ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے صحافی کا حوالہ دیتے ہوئے کم از کم چار افراد کی ہلاکت اور 35 کے شدید زخمی ہونے کی خبر دی۔
ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے خبردار کیا ہے کہ سیستان و بلوچستان اور ہرمزگان کے صوبوں میں حملوں کے جواب میں امریکہ کو ”عبرت ناک اور تباہ کن ضربوں“ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تسنیم نیوز ایجنسی نے الگ سے خبر دی کہ ایران نے نئے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے صوبہ مرکزی کے علاقے خُمین کے اوپر امریکہ کا ایم کیو-9 ڈرون مار گرایا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا کہ امریکی افواج نے جی ایم ٹی کے مطابق 16:00 بجے ایران میں آئی آر جی سی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ سینٹکام کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی اور خطے میں تعینات امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی آئی آر جی سی کی مبینہ کوششوں کے بعد کی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی ٹھکانوں پر حملے کر رہی ہیں اور خبردار کیا کہ ایران کی کسی بھی جوابی کارروائی کا مزید شدید ردعمل دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اردن میں امریکی بیس کی جانب داغے گئے آٹھ ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بندر عباس کے قریب اور جزیرہ قشم پر مزید دھماکوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ فارس ایجنسی نے سیستان و بلوچستان کے علاقوں چابہار اور کنارک کے گرد و پیش چار راکٹ گرنے کی بھی اطلاع دی۔
کشیدگی کی لہر نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو بھی متاثر کیا۔ برطانوی بحری تجارتی آپریشنز ایجنسی (یو کے ایم ٹی او) نے بتایا کہ عمان کے علاقے خصب کے قریب آبنائے سے نکلتے ہوئے ایک آئل ٹینکر کو تین نامعلوم راکٹوں نے نشانہ بنایا، تاہم کسی جانی نقصان یا ماحولیاتی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ایرانی حکام نے کہا کہ اگر واشنگٹن عبوری یادداشتِ تفاہم کے تحت اپنے التزامات پر واپس آئے تو سفارت کاری اب بھی ممکن ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ اسماعیل بقائی نے امریکہ پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا، جبکہ صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ اگر واشنگٹن اپنے التزامات بحال کرے تو تہران بھی مثبت ردعمل دے گا۔
امریکہ نے کشیدگی میں اضافے کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ میں موجود اپنے شہریوں کو پروازوں کی ممکنہ منسوخی، فضائی حدود کی بندش اور سفر میں مزید مشکلات کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔





